آج ہی کے دن 11 مئی 1993 کو ایک عظیم شخصیت، دانشور اور گوریلا کمانڈر بابو شیر محمد مری، قوم سے جسمانی طور پہ جدا ہوگئے تھے۔ ان کا انتقال ہندوستان کے شہر دہلی کے ایک ہسپتال میں ہوا۔
بابو شیروف نے اپنی پوری زندگی بلوچستان کی آزادی کے لیے وقف کی تھی،تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ 1960 میں انہوں نے قابض ریاست کے خلاف کوہلو کے علاقے میں دشمن کے خلاف گوریلہ کاروائیوں کا آغاز کیا۔
بابو نوروز کے ساتھیوں کو ریاستی دھوکہ سے گرفتاری اور پھر اْن بلوچ فرزندوں کے بہیمانہ پھانسی کے بعد بابو شیروف نے باقاعدہ مسلح مزاحمت کا اعلان کیا اور سرمچاروں کی کمان کرتے ہوئے قابض ریاست کے خلاف مسلح مزاحمت کرتے رہے۔
بابو شیروف نے قید وبند جلا وطنی اور قابض ریاست کی دیگر تمام جبرو مظالم کا خندہ پیشانی اور دیدہ دلیری سے مقابلہ کیا۔

قابض ریاست کی مکاری اور عیاری سے جرنل شیروف مری بخوبی واقف تھے۔لہذا وہ علاقائی سطح پہ ریاستی سرپرستی میں قائم گروہوں سے بھی واقف تھا اور ریاستی پروپگنڈہ سے بھی۔
عسکری محاذ پہ جرنل شیروف کی گہری نظر تھی اپنے اسی فہم و فراست سے بابو شیرو قابض ریاست کے ہرچال کو ہر محاذ پہ ناکامی سے دوچار کرتے رہے۔
جنگ پہ عبور رکھنے کے ساتھ ساتھ جرنل شیروف ایک دانشور بھی تھے شاعری سے بھی بابو شیروف گہرا لگاو رکھتے تھے۔
11 مئی 1993 کو طویل علالت کے بعد جرنل شیروف ہندوستان کے شہر دہلی کے ایک ہسپتال میں بلوچ قوم سے جسمانی طور پہ جدا ہوگئے۔