بلوچ نیشنل موومنٹ کے سابق مرکزی جنرل سیکریٹری اور بلوچ اسٹوڈنس آرگنائزیشن کے سابق چیئرمین رحیم بلوچ ایڈوکیٹ نے اپنے ایک ٹیوٹ میں کہا ہے کہ پاکستان آرمی کے مقتول میجر ندیم بھٹی حقوق انسانی کی پامالی، شہریوں کے گھروں و روزگار کے ذرائع کو نذر آتش کرنے، مسلح لشکروں کو استعمال کرنے، منشیات کے کاروبار اور نوخیز بچوں کو بطور کھٹ پتلی بھرتی کرنے جیسے جرائم میں ملوث ایک جنگی مجرم تھا۔
ٹیوٹ میں مزید لکھا ہے کہ اطلاعات ہیں کہ تین نوخیز بچے میجر ندیم کے ہمراہ ہلاک اور پانچ دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ ٹیوٹ کے ساتھ رحیم بلوچ نے میجر ندیم کی چار مختلف تصاویر بھی شیئر کیا ہے ایک تصویر میں مقتول میجر ندیم اپنے ایک پروکسی ملیشیا کی مسلح کارندوں کے ساتھ کھڑا ہے۔
دوسری تصویر میں وہ بلوچستان کے ایک گاؤں جالگی میں گھروں اور آئل ٹینکرز کو نذر آتش کرنے کے بعد جائے وقوعہ پر کھڑا آسمان کو چھوتے آگ کے شعلوں اور دھوئیں کا نظارہ کرتا ہوا نظر آتا ہے تیسری تصویر میں وہ سابق کھٹ پتلی وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک کے ساتھ محوِ گفتگو ہے اور چوتھے تصویر میں وہ نوخیز بچے مسلح نظر آتے ہیں جو بم دھماکہ کے نتیجہ میں میجر ندیم کے ساتھ اس کی گاڑی میں ہلاک ہوگئے ہیں۔