افغانستان کے لیے پاکستان کے خصوصی سفارتی نمائندے آصف درانی کا کہنا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) در اصل کابل کے طالبان حکمرانوں کے زیر اثر ہے اور اسلام آباد کے لیے یہ بات ناپسندیدہ ہونے کے ساتھ ہی کافی پریشان کن بھی ہے۔
ان کا کہنا تھا، ہمارے لیے اس حقیقت کا ادراک ناقابل فہم ہے کہ ٹی ٹی پی کے لوگ، جو افغانستان میں رہتے ہیں، ان کے (افغان طالبان) کے کنٹرول میں ہیں۔ انہیں پاکستان کی سرحد عبور کرنے، تخریب کاری کی سرگرمیاں کرنے، قتل عام کرنے اور پھر واپس جانے کی بھی اجازت ہے۔
پاکستان کے خصوصی نمائندے آصف درانی نے پاکستان کے ایک میڈیا ادارے ایمبیسیڈرز لاؤنج کے ساتھ اس بارے میں ایک خصوصی انٹرویو کے دوران کہا کہ یہ وہ چیز ہے جو ہمارے لیے پریشان کن ہے۔
آصف درانی نے بات چیت کے دوران کہا، ہمارے لیے سب سے بڑا مسئلہ ٹی ٹی پی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ افغانستان کی طالبان حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ٹی ٹی پی کو کنٹرول کرے اور انہیں غیر مسلح کرے۔
انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا، افغان طالبان اس ذمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے، کیونکہ یہ دو طرفہ تعلقات کے لیے اچھا نہیں ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا، یہ کہا جاتا ہے کہ وہ (افغان طالبان اور ٹی ٹی پی) ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ انہوں نے واضح طور اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ پاکستان کو پہلے ان دونوں کے تعلقات کے بارے میں غلط فہمی تھی۔