پاکستانی فوجی اہلکاروں کی خود کشی میں اضافہ

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

گزشتہ روزمقبوضہ بلوچستان کے ضلع کیچ میں دو فوجی اہلکاروں کی خودکشی کے واقعات سامنے آئے،ان میں سے ایک فوجی نے گومازی بن پیر کے مقام پر اپنے آپ کو گولی مار کر خود کشی کر لی، جبکہ ایک اور فوجی اہلکار نے تمپ کے علاقے نہنگ میں خودکشی کی۔

مقبوضہ بلوچستان میں پاکستانی فوج کے خود کشیوں کے کئی واقعات ماضی میں سامنے آنے کے ساتھ بہت سارے اپنی پوسٹ و ہتھیار چھوڑ کر کچھ برس قبل ایران بھی بھاگ گئے تھے۔

اب 2020 میں اس میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
اسی طرح ایک واقعہ ڈیرہ اسماعیل خان میں پیش آیا،جہاں ایک کمسن لڑکے نے خود کشی کی جسے کم عمری میں پاکستانی فوج میں بھرتی کرنے کے ساتھ مقبوضہ بلوچستان تعینات کیا گیا تھا۔

اس واقعہ کی خبر پشتون تحفظ موؤمنٹ کے رہنما اور پاکستانی قومی اسمبلی کے ممبر علی وزیر نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹیوٹر پر اپنے ایک ٹیوٹ میں کچھ یوں بیان کیا کہ

کم عمر بچوں کو ایف سی میں بھرتی کیا جا رہا ہے اور انکو بلوچستان کے ان علاقوں میں بھیجا جاتا ہے جہاں باقاعدہ جنگ ہو رہی ہے۔
انہوں نے مزید لکھا کہ کل ہی کورائی ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک ایف سی والے نے خود کشی کی جس کی ڈیوٹی بلوچستان میں تھی۔

یقینا پاکستانی فوجی اہلکاروں کے خودکشی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور ایسی خبریں یہ باہر آنے بھی نہیں دیتے ہیں،

ضلع کیچ سے ایک سنیئر پولیس آفیسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی صورت میں بتایا کہ بلوچستان کے جن علاقوں میں جنگ میں تیزی ہے وہاں خودکشی کے واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں،انکے مطابق اس کی سب سے بڑی وجہ بلوچ سرمچاروں کی جانب سے اسنائپر حملے ہیں،۔

اسنائپر رائفل سے دور سے یہ فوجی چوکی یا قافلوں کو نشانہ بناتے ہیں،اب کس سمت سے گولی آئی کسی کو پتہ نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ فورسز کے اہلکار وار سائیکو بن جاتے ہیں اور گوریلہ جنگی حکمت عملی میں اسنائپر کی اپنی تاریخ ہے اور اب عالیہ دور میں ایسے دیکھنے میں آ رہا ہے کہ بلوچ سرمچاروں نے خاص جنگی حکمت عملی کے تحت یہ طریقہ اپنایا ہے اور اس حکمت عملی نے فوجی اہلکاروں کو بے چین ہونے کے ساتھ وار سائیکو بنا دیا ہے۔

انکے مطابق فوجی اہلکاروں کے خودکشی کرنے کے واقعات میں یہ اہم سبب ہے، بلوچستان کے جنگ والے علاقوں میں زیادہ تر فوجی پشتون قوم سے لا کے تعینات کیے گئے ہیں شاید ہی کوئی میجر کے پوسٹ پر ہو،لائس نائیک،صوبیدار کچھ ہونگے،باقی تمام افسران پنجاب سے ہیں او ر سننے میں آیا کہ پشتون سپاہیوں کے ساتھ پنجابی افسران کا رویہ بھی صحیح نہیں ہے،اور انھیں ششماہی چھٹیاں بھی نہیں دی جاتی ہیں،اس کے ساتھ اب کمسن نوجوانوں کو جوپندرہ سے سترہ سال کے درمیانہ عمر کے ہوتے ہیں انکو بھرتی کر کے بلوچستان تعیناتی کے واقعات سامنے آ رہے ہیں اور انکے ساتھ جسمانی زیادتیوں کے قصے بھی سننے کو ملتے ہیں۔

اب آپ کے سامنے گزشتہ روز ڈیرہ اسماعیل خان کا واقعہ سامنے ہے جب کمسن پشتون سپاہی نے خود کشی کی،دنیا کی کوئی قانون کمسن بچوں کو فوج میں تعیناتی کی اجازت نہیں دیتی ہے۔

Share This Article
Leave a Comment