بنگلہ دیش : سراپااحتجاج مزدوروں کیخلاف مقدمات ،150 گارمنٹ فیکٹریاں بند

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بنگلہ دیش میں گارمنٹ فیکٹریوں کے کارکنان گزشتہ ماہ سے سراپا احتجاج ہیں اور کم سے کم اجرت میں اضافے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کےخلاف مقدمات کے بعد ہڑتال کے خدشے کے باعث مالکان نے 150 فیکٹریاں بند کر دی ہیں۔

بنگلہ دیش میں ملبوسات کی برآمدی صنعت کی ڈیڑھ سو فیکٹریوں کے مالکان نے ہفتے کے دن سے اپنے پیداواری ادارے غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیے۔

اس جنوبی ایشیائی ملک میں اس صنعت کے کئی ملین کارکنوں کے لیے کم سے کم اجرتوں سے متعلق ایسا تنازعہ جاری ہے، جس دوران وسیع تر مظاہرے کیے گئے اور پولیس کو مظاہرین کے خلاف آنسو گیس اور ربڑ کی گولیاں بھی استعمال کرنا پڑیں۔

ڈیڑھ سو کے قریب فیکٹری مالکان نے اپنےا دارے بند کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا کہ حالیہ مظاہروں کے باعث پولیس نے گیارہ ہزار احتجاجی کارکنوں کے خلاف اب اجتماعی الزامات عائد کر دیے ہیں۔ بنگلہ دیش میں گارمنٹ فیکٹریوں کی تعداد تقریباً ساڑھے تین ہزار ہے، جن میں چار ملین کے قریب کارکن کام کرتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر خواتین ہیں۔

بنگلہ دیشی پولیس افسران کا کہنا ہے کہ ملک میں گارمنٹ فیکٹریوں کے ملازمین کی جانب سے حالیہ پرتشدد مظاہروں کے بعد 11,000 افراد کے خلاف مقدمات درج کیے ہیں، جس کے بعد ہڑتال کے خدشے کے باعث مالکان نے 150 فیکٹریاں "غیر معینہ مدت” کے لیے بند کردی ہیں۔

اس وقت بنگلہ دیش میں 3,500 کے قریب گارمنٹ فیکٹیریاں ہیں، جو لیوائز، زارا اور ایچ اینڈ ایم سمیت کئی اور نامور برانڈز کو ملبوسات فراہم کرتی ہیں۔ بنگلہ دیش کی سالانہ 55 بلین ڈالر کی برآمدات میں 85 فیصد حصہ انہی گارمنٹ فیکٹریوں کی پیداوار کا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment