ٹی ٹی پی کیساتھ معاہدے کے باعث پاکستان میں دہشتگردی میں اضافہ ہوا، اسحاق ڈار

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پاکستان کے سابق وزیر خزانہ و مسلم لیگ ن کے رہنماسینیٹر اسحا ق ڈارنے پاکستان میں دہشتگردی میں اضافے کا سبب ٹی ٹی پی کیساتھ معاہدہ قرار دیاہے۔

سینیٹ اجلاس میں قائد ایوان اور رہنما مسلم لیگ (ن) اسحٰق ڈار نے نہ کہا کہ پاکستان میں دہشتگردی میں اضافے کا سبب افغانستان کے ساتھ 2018 میں طے پانے والی مفاہمت اور اس کے نتیجے میں کالعدم ٹی ٹی پی کے عسکریت پسندوں کی رہائی ہے۔

سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے اقتدار میں آنے کے فوراً بعد دہشت گردی کی لعنت کے خلاف ٹھوس اقدامات کیے جس کے ثمرات سامنے آئے لیکن افسوس ہے کہ 2018 میں یو ٹرن کی پالیسی اپنائے جانے کے بعد اس نے دوبارہ سر اٹھا لیا۔

انہوں نے 2014 میں افغانستان کی سرحد کے ساتھ ملحقہ شمالی وزیرستان میں شروع کیے گئے آپریشن ضرب عضب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک مشکل فیصلہ تھا، اس آپریشن کے لیے 100 ارب روپے سالانہ درکار تھے، ابتدائی طور پر یہ آپریشن ایک سال میں مکمل ہونے کی امید تھی لیکن بالآخر اس میں 4 سال لگ گئے۔

انہوں نے آپریشن ردالفساد کا بھی ذکر کیا جو پاکستان بھر میں دہشت گردوں کے سلیپر سیلز کو ختم کرنے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔

اسحاق ڈار نے چیئرمین سے درخواست کی کہ وہ نگران حکومت سے اس معاملے پر سینیٹ کو ان کیمرہ بریفنگ دینے کو کہیں۔

انہوں نے کہا کہ آپ اعدادوشمار دیکھ سکتے ہیں، 2013، 2014، 2016 اور 2017 میں کیا صورتحال تھی، 2018 کے بعد پالیسی میں تبدیلی دیکھی گئی۔

انہوں نے کہا کہ کابل میں طالبان کے اقتدار میں واپسی کے بعد پاکستان سے افغانستان کا ایک اعلیٰ سطح کا دورہ ہوا، یہ سلسلہ وہیں نہیں رکا، کابل میں طے پانے والے ایک مفاہمت کے تحت سیکڑوں خطرناک دہشت گردوں کو رہا کر دیا گیا۔

انہوں نے سوال کیا کہ یہ فیصلہ کس سوچ کے تحت کیا گیا؟ کوئی قوم کو بتائے گا؟ قوم کو اس کے بارے میں تب پتا چلا جب پاکستانی عہدیداران کے دورہ کابل اور وہاں مذاکرات کی تصاویر منظر عام پر آئیں۔

دہشت گردی کے خلاف فوری کارروائی کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کے لیے فروری 2024 کے انتخابات کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment