خاران: دوران چھاپہ ایف سی نے پورے گھر کاصفایا کردیا

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے ضلع خاران میں 7 نومبر کی رات کو پاکستانی فورس ایف سی نے وڈھ ایریا میں ایک گھر پر چھاپہ مار کر 2 کمسن لڑکوں کو حراست میں لیکر جبراً لاپتہ کردیا، اس دوران ایف سی نے گھر کے اندر لوٹ مار کرکے قیمتی ساز و سامان کے علاوہ گھر میں موجود راشن تک ساتھ لے گئے۔

لاپتہ ہونے والے بچوں کی شناخت چودہ اور تیرہ سالہ قدیر اور صلاح الدین کے ناموں سے ہوئی ہیں۔

علاقائی ذرائع کے مطابق چھاپے کے دوران ایف سی اپنی روایت برقرار رکھتے ہوئے گھر سے موبائل فونز، ایک عدد نیا موٹر سائیکل، سولر اور گھر میں موجود پورا راشن اپنے ساتھ لے گئے۔

علاقائی ذرائع کے مطابق جبری گمشدگی کے شکار غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والے بیمار بچے عبدالقدیر یلانزئی اور صلاالدین یلانزئی تاحال بازیاب نہ سکے ۔

جبری گمشدگی کے شکار بچوں کے لواحقین نے میڈیا میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایف سی کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے شکار دونوں بچے ہیپاٹائٹس سی اور ذہنی مریض ہیں جنہیں بلا جواز ریاستی فورس ایف سے نے جبری طور پر گمشدہ کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کیا ہے ۔

انکا کہنا تھا کہ عبدالقدیر یلانزئی جوکہ 13 سال کا بچہ ہے اور یپاٹائٹس سی کا مریض ہے ۔ جبکہ صلاالدین جوکہ 14 سال کا بچہ ہے اور اسے زہنی مرض لاحق ہے ۔ ان دونوں بچوں کو جبری طور پر بلاجواز گمشدہ کرنا سمجھ سے بالاتر ہے ۔

لواحقین کا کہنا تھا کہ جبری گمشدگی کے بعد عبدالقدیر و صلاالدین کے والدین انتہائی اذیت ناک کرب سے گزررہے ہیں کہ ہمارے بیمار بچوں کو ایف سے کے اہلکار ہمارے سامنے سے مار پیٹھ کر اپنے ساتھ لے گئے اور تاحال انکو بازیاب نہیں کیا ہے ۔

بچوں کی جبری گمشدگی کے بعد جب لواحقین نے کیمپ جاکر انکی رہائی کا مطالبہ کیا تو فورسز کی طرف سے جھوٹی تَسلّیوں کے بغیر کوئی واضع صورتحال نظر نہیں آیا ۔

انہوں نے مزید کہا کہ چھاپے کے دوراں ایف سی نے نہ صرف ہمارے بچوں کو جبری طور پر گمشدہ کرکے اپنے ساتھ لے گیا بلکہ گھر کے اندر دوسرے سازو سمان ، سولر پلیٹ، چینی اور تمام تر اشیا خوردنوش و موبائل فونز بھی اپنے ساتھ لئے گئے ۔

واضع رہے کہ بھوکلاہٹ کے شکار ریاستی فورس ایف سے و سی ٹی ڈی ایک طویل عرصے سے خاران سمیت پورے بلوچستان میں بلاجواز بچوں اور سیاسی اسیران کو جبری گمشدگی کے بعد گھروں میں سازو سامان کی چھوری اور گندگی پہلانے کے عمل میں ملوث رہے ہیں ۔

Share This Article
Leave a Comment