گذشتہ 14 سالوں سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری لاپتہ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے سابقہ وائس چیئر مین ذاکرمجید بلوچ کی عدم بازیابی کیخلاف لواحقین نے بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں ایک احتجاجی ریلی۔
ریلی میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شریک تھی۔
مظاہرین نے پولیس کیخلاف بھی نعرے بازی کی اور لاپتہ ذاکر مجید بلوچ اور دیگر لاپتہ افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی مظاہرے میں شریک لواحقین کا کہنا تھاکہ اگر ان کے پیارے نے کوئی جرم کیا ہے تو انہیں ثبوت کیساتھ عدالتوں میں پیش کیا جائے۔
ریلی کو بلوچ یکجہتی کمیٹی اور وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی حمایت بھی حاصل تھی۔
واضع رہے کہ لاپتہ طلبا رہنما ذاکر مجیدکو چودہ سال قبل 8 جون 2009 کو مستونگ پڑنگ آباد سے اٹھایا گیا تھاجو ہنوز لاپتہ ہیں۔