بلوچستان میں ایک ہفتے کے دوران فورسز ہاتھوں 6 افرادلاپتہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

مقبوضہ بلوچستان میں نومبر کے پہلے ہفتہ یعنی سات دنوں میں اب تک پاکستانی فورسز نے 6 افراد کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا جس میں دو کمسن بچے بھی شامل ہیں۔جبکہ خضدار کے علاقے نال میں صحافی و سوشل ورکر شریف سنجرانی کو قتل کردیا گیا،علاقی ذرائع کے مطابق اس قتل کے پیچھے ریاستی فورسز کاہاتھ ہے۔

دو نومبر کو فورسز نے کیچ کے مرکزی شہر تربت کے علاقے ڈکی بازار سے شاہد ولد دلپل کو حراست بعد ملٹری کیمپ منتقل کیا،اسی تاریخ کو خضدار کے علاقے کوڈاسک کے رہائشی ہارون بلوچ کو بھی فورسزنے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا۔

تین نومبر کو کیچ کے علاقے نودز میںفورسز نے نعمان ولد امان کو گھر میں گھس کر حراست میں لیا اور گھر والوں کو تشدد کا نشانا بنایا۔

تین نومبر کو خضدار کے علاقے نال میں صحافی و سوشل ورکر شریف سنجرانی کو ریاستی خفیہ اداروں و ڈیتھ اسکواڈ نے نشانہ بنا کر قتل کردیا۔

پانچ نومبر کوگواسر کے ساحلی شہر پسنی سے پاکستانی فوج و خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے سلیم رضا کو بازار سے حراست بعد جبرا لاپتہ کردیا۔

چھ اور سات نومبر کی رات خاران میں وڈھ ایریا میں پاکستانی فوج اور اسکے خفیہ اہلکاروں نے گھر پر دھاوا بول کر عبدالقدیر ولد محمد عارف یلانزئی اور صلاالدین ولد محمد خان یلانزئی نامی 2 کمسن لڑکوں کو تشدد کے بعد اپنے ساتھ لے گئے جنکی عمریں 13 اور 14 سال کے بتائے جاتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق عبدالقدیر اور صلاالدین بنیادی طور پر گواش بْٹ کے رہائشی ہیں جو کہ خاران شہر اپنے گھر میں تھے کہ انکو ریاستی فورسزنے چھاپے کے دوران لاپتہ کیا۔

Share This Article
Leave a Comment