ذاکر مجید کی طویل گمشدگی کیخلاف 8 نومبر کو احتجاجی ریلی کے انعقاد کا اعلان

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ طالب علم رہنما اور بی ایس او آزاد کے سابق وائس چیئرمین ذاکر مجیدکی 14سالہ طویل گمشدگی کیخلاف 8 نومبر کو کوئٹہ میں احتجاجی ریلی کے انعقاد کا اعلان کیا گیا ہے ۔

ا س سلسلے میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ بلوچ طالب علم لیڈرذاکر مجید بلوچ کی طویل جبری گمشدگی کے خلاف انکے اہلخانہ کی جانب سے 8 نومبر بروز بدھ 11 بجے کو بلوچستان یونیورسٹی سے کوئٹہ پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی جائے گی۔

انہوں نے سیاسی جماعتوں اور طلباء تنظیموں سمیت تمام مکاتب فکر کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ احتجاجی ریلی میں بھر پور شرکت کرکے ذاکر مجید سمیت تمام لاپتہ افراد کی باحفاظت بازیابی کو یقینی بنانے اور جبری گمشدگیوں کے روک تھام کا مطالبہ کرے۔

دوسری جانب بی ایس او نے ذاکر مجید کے حوالے سے منعقد ہونے والی ریلی کی حمایت کا اعلان کیا ہے ۔

بی ایس اوبلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ حمایتی بیان میں کہا ہے کہ طالب علم رہنما ذاکر مجید کے بازیابی کے لئے ان لواحقین کی جانب سے نکالی جانے والی ریلی کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عرصہ دراز سے بلوچستان میں طلبہ سیاست کو زیرِ عتاب رکھنے کے لئے ریاست کی جانب سے طلبہ رہنماؤں کی جبری گمشدگی کا بے رحم سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ طلبہ رہنما ذاکر مجید بھی اسی سلسلے کا نشانہ بنے۔ ذاکر مجید کے جبری طور پر لاپتہ ہونے کو چودہ سال گزر چکے مگر انہیں بازیاب یا منظر عام پر لانا تو دور کی بات ان کا جرم تک بتایا نہیں گیا اور نہ ہی لواحقین کو ان کے بارے میں کسی قسم کا معلومات فراہم کیا گیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جبری گمشدگیاں ملکی و بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ کوئی شخص جتنا بھی بڑا مجرم کیوں نہ ہو ریاست کو یہ حق ہرگز حاصل نہیں کہ اسے جبری طور پر لاپتہ کیا جائے اور اسے ماورائے آئین و قانون ہراساں کیا جائے یا اسے سزا دی جائے۔بی ایس او ذاکر مجید کے لواحقین کی جانب سے 8 نومبر کو جامعہ بلوچستان تا پریس کلب نکالی جانے والی ریلی کی مکمل حمایت کرتی ہے اور شال زون کو سختی سے تاکید کیا جاتا ہے کہ وہ اس ریلی میں شرکت کو یقینی بنائیں۔ شال میں موجود دیگر زونز کے اراکین کو بھی تاکید کیا جاتا ہے کہ وہ بھی اس ریلی میں بھرپور شرکت کریں۔

Share This Article
Leave a Comment