غزہ بچوں کیلئے ایک زندہ جہنم اورقبرستان بن چکا ہے،اقوام متحدہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے خبر دار کیا ہےکہ اگر غزہ میں جنگ بندی کے مطالبات پر توجہ نہ دی گئی تو ہلاکتوں میں اضافہ ہو گا اور اس گنجان آباد علاقے میں فلسطینی بچوں کو زیادہ خطرات کا سامنا ہوگا۔

بچوں کے لیے اقوام متحدہ کے فنڈ کے ترجمان جیمز ایلڈر نے کہا، "غزہ ہزاروں بچوں کا قبرستان بن چکاہے۔ یہ باقی سب کے لئے ایک زندہ جہنم ہے۔”

حماس کےزیر انتظام کام کرنے والی وزارت صحت نے کہا ہے کہ 7 اکتوبر کو عسکریت پسندوں کے اسرائیل پر حملوں کے بعد سے اسرائیل کی شدید بمباری کے باعث غزہ میں 8,300 فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں جن میں 3,457 بچے شامل ہیں۔

اسرائیل پر سات اکتوبر کو حماس کے حملے میں1,400 لوگ ہلاک ہوئے تھے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔ حماس نے 240کے قریب لوگوں کو یرغمال بھی بنایا تھا۔

یونیسیف کے ترجمان جیمز ایلڈر نے کہا کہ غزہ میں تنازعےکی ابتداء ہی سے یونیسیف نے انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کی ضرورت، امداد کی ترسیل اور یرغمال بنائے گئے بچوں کی رہائی کے بارے میں واضح موقف اپنا رکھا ہے۔

اسی طرح ہم نے استدعا کی ہے کہ بچوں کی ہلاکتوں کو روکا جائے۔

عالمی ادارہ برائے صحت نے کہا ہے کہ قبل از وقت پیدا ہونے والے 130 نوزائیدہ بچوں کی زندگی کا انحصار ان انکیوبیٹرز پر ے جن میں سے 61 فیصد غزہ کے شمالی حصے میں ہیں جہاں اسرائیلی بمباری سب سے زیادہ شدید ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق 50 ہزار خواتین حاملہ ہیں اور روزانہ اوسطا 180 بچوں کی پیدائش ہوتی ہے اور ذیابیطس، دل کی بیماری اور کینسر جیسی غیر متعدی بیماریوں میں مبتلا 3 لاکھ 50 ہزار افراد کو فوری طبی امداد کی ضرورت ہوتی ہے۔

Share This Article
Leave a Comment