مصر، اسرائیل اور حماس کے درمیان ایک معاہدے کے تحت غزہ میں موجود غیر ملکیوں اور شدید زخمیوں کو مصر داخلے کی اجازت دی گئی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایک ذریعے سے بتایا ہے کہ قطر نے امریکہ کے تعاون سے مصر، اسرائیل اور حماس کے درمیان معاہدے میں ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔
اس معاہدے کے تحت غیرملکی پاسپورٹ رکھنے والوں اور کچھ شدید زخمی افراد کو مصر اور غزہ کے درمیان رفح بارڈر کراسنگ کے ذریعے غزہ چھوڑنے کی اجازت ہوگی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ انخلا کب تک جاری رہے گا اس کی کوئی ٹائم لائن نہیں دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس معاہدے میں دیگر معاملات جیسے حماس کی جانب سے یرغمال بنائے گئے افراد اور غزہ میں انسانی بحران کو کم کرنے جیسے مسائل شامل نہیں ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے رپورٹ کیا ہےکہ رفح سرحد کھلنے کے بعد غیرملکی پاسپورٹ رکھنے والوں نے جنگ زدہ علاقے کو چھوڑنا شروع کردیا ہے۔
امکان ہے کہ بدھ کو لگ بھگ 400 غیر ملکی یا دہری شہریت رکھنے والے افراد اور تقریباً 90 بیمار و زخمی غزہ سے نکل جائیں گے۔
اس سے قبل رفح کراسنگ پر موجود ایک مصری عہدے دار نے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ بدھ کو غیرملکی پاسپورٹ رکھنے والوں کے پہلے گروپ کو غزہ کی پٹی سے مصر جانے کی اجازت دی جائے گی۔
مصری اور فلسطینی حکام کے مطابق مصری انٹیلی جینس سروسز کے قریب ٹیلی ویژن چینلز نے براہِ راست تصاویر شیئر کیں ہیں جس میں ایمبولینسز کا ایک بیڑہ 81 شدید زخمی فلسطینیوں کے علاج کے لیے مصر کی طرف سے ٹرمنل میں داخل ہو رہا ہے۔