غزہ میں بمباری سے 50 افراد ہلاک،بولیویا کا اسرائیل سے تعلقات ختم کرنیکا اعلان

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

اسرائیل نےکہا ہے کہ اس نےمنگل کے روز شمالی غزہ کی پٹی میں، حماس کے سرنگوں کے نیٹ ورک پر فضائی حملے کیے جب کہ جبالیہ پناہ گزین کیمپ کے قریب ایک حملے میں کم از کم 50 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

اسرائیل نے شمالی غزہ میں جنگ کے دوران اپنے دو فوجیوں کی ہلاکت بھی رپورٹ کی ہے۔ یہ غزہ میں ہونے والی جنگ میں اسرائیلی افواج کی پہلی ہلاکتیں ہیں۔

فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل رچرڈ ہیچٹ نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے نشریاتی ادارے سی این این کو بتایا کہ "اس علاقے میں حماس کا ایک بہت ہی سینئر کمانڈر تھا۔”

خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اسرائیلی فوج نے کہا ہےکہ اس نے جبالیہ میں حماس کے بنیادی ڈھانچے پر وسیع حملہ کیا ہےجسکا شہری عمارتوں پر قبضہ تھا۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ڈینیل ہگاری نے دعویٰ کیا ہے کہ ہدف بنائی جانے والی ایک عمارت کے نیچے حماس کی زیرِ زمین تنصیب ڈھیر ہو گئی، جس سے قریبی عمارتیں گر گئیں۔ انہوں نے کہا کہ حملے میں مارے گئے حماس کےکمانڈر ابراہیم بیاری نے سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملے میں کردار ادا کیا تھا۔

دوسری جانب بولیویا نے اسرائیل کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

یوں بولیویا پہلا لاطینی امریکی ملک بن گیا ہے، جس نے غزہ کی پٹی میں اپنی فوجی کارروائی پر اسرائیل سے سفارتی تعلقات توڑ لیے ہیں۔

اس فیصلے کا اعلان ایوان صدر کی وزیر ماریہ نیلا پراڈا اور خارجہ امور کے وائس چانسلر فریڈی ممانی نے منگل کے روز کیا۔

وائس چانسلر فریڈی ممانی نے کہا کہ بولیویا نے ’غزہ کی پٹی میں جارحانہ اور غیر متناسب اسرائیلی فوجی حملے کی مذمت ہوئے ریاست اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات توڑنے کا عزم کیا ہے۔‘

ان کے مطابق ’ہم غزہ کی پٹی میں حملوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں، جو اب تک ہزاروں شہریوں کی موت اور فلسطینیوں کی جبری بے گھری کا سبب بن چکے ہیں۔ بولیویا نے غزہ کی ناکہ بندی ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سےخوراک، پانی اور زندگی کی دیگر اہم ضروری اشیا تک عوام کی رسائی مشکل ہو گئی ہے۔

Share This Article
Leave a Comment