عالمی عدالت نے حماس و اسرائیل کے ممکنہ جنگی جرائم کی تحقیقات شروع کردی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بین الاقوامی فوجداری عدالت نے عندیہ دیا ہے کہ ایک ٹریبیونل اسرائیل اور حماس دونوں کے ممکنہ جنگی جرائم کی تحقیقات کر رہا ہے۔

اس کا کہنا ہے کہ غزہ میں امدادی سامان کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالنا جرم کے زمرے میں آ سکتا ہے۔

بین الاقوامی فوجداری عدالت کے چیف پروسیکیوٹر کریم خان نے اتوار کے روز رفح بارڈر کراسنگ کا دورہ کرنے کے بعد کہا کہ غزہ میں امدادی سامان کی فراہمی میں رکاوٹ جنیوا کنونشن اور آئی سی سی کے دائرہ اختیار کے تحت جرم کے زمرے میں آ سکتی ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ آئی سی سی کا ایک ٹریبیونل اسرائیل اور انتہا پسند تنظیم حماس دونوں ہی کے ممکنہ جنگی جرائم کی تحقیقات کر رہا ہے۔

کریم خان نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، "میں اسرائیل سے واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ وہ کھانے پینے کی بنیادی اشیاء، نیز ہر طرح کی ادویات کی بلا تاخیر شہری آبادی تک رسائی کو یقینی بنائے۔”

انہوں نے مزید کہا، "میں نے انسانی امداد سے بھرے ٹرکوں کو مصر میں، رفح میں، پھنسے ہوئے دیکھا ہے۔ اس سامان کی وہاں کسی کو ان کی ضرورت نہیں۔ ان اشیاء کو بلا تاخیر غزہ کے شہریوں تک پہنچنا چاہیے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ جینیوا کنونشن کے تحت امدادی سامان میں رکاوٹیں ڈالنا عدالت کے دائرہ اختیار میں جرم ہے۔

Share This Article
Leave a Comment