بلوچستان میں کان کنوں اور کوئلے سے بھرے ٹرکس پر مسلح افراد کے حملوں اور انہیں نذر آتش کیے جانے کے خلاف بلوچستان کے کچھ حصوں میں کان کنوں اور مالکان کے احتجاجی دھرنے کے باعث دکی اور دیگر علاقوں کی کوئلے کی کانوں سے پنجاب سمیت دیگر صوبوں کو کوئلے کی سپلائی معطل ہوگئی۔
مظاہرین نے دکی و دیگر کول فیلڈ ایریاز کو پنجاب اورپاکستان کے دیگر صوبوں سے ملانے والی مرکزی شاہراؤں کو رکاوٹیں لگا کر بند کر دیا۔
دکی اور ہرنائی کے علاقوں میں کان کنوں کے احتجاج کرنے والے مالکان نے شکایت کی کہ کان کنوں اور پنجاب میں کوئلہ لے جانے والے ٹرکوں پر حملے روز کا معمول بن چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حالیہ فائرنگ کے واقعات کے بعد ہمارے پاس کانوں کو بند کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے، ہم نے پنجاب کو کوئلے کی سپلائی روک دی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت سے بار بار اپیل کرنے کے باوجود کان مالکان اور مزدوروں کے تحفظ کے لیے کوئی انتظامات نہیں کیے گئے۔
تقریباً دو ماہ قبل مسلح افراد نے کوئلے سے لدے 10 ٹرکس روک کر نذر آتش کر دیے تھے۔
مظاہرین نے مکمل حفاظتی انتظامات کا مطالبہ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں ہوتے، وہ مرکزی شاہراہ پر دھرنا جاری رکھیں گے جب کہ احتجاج کے باعث بڑی تعداد میں کوئلے کے ٹرک پھنسے ہوئے ہیں۔