بلوچستان و خیبر پختونخوا کے طلبا پنجاب میں غیرمحفوظ ہیں،ایچ آر سی پی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارلحکومت لاہورمیں گذشتہ روز پنجاب یونیورسٹی کے نیو کیمپس کے گیٹ نمبر ایک سے ایک بلوچ طالب علم فرید بلوچ کو پولیس اور سادہ لباس میں ملبوس افراد نے جمعہ کو حراست میں لے لیا، جس پر انسانی حقوق کی تنظیمیں، طلبہ اور بلوچ قوم پرستوں کی جانب سے احتجاج اور اظہار مذمت کیاجارہا ہے ۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے ان رپورٹس پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ پشتون اور بلوچ طلبہ کو قانون نافذ کرنے والے ادارے گزشتہ چند دنوں سے لاہور کی یونیورسٹی میں ہراساں کر رہے ہیں، انہیں ڈرا رہے ہیں، اور تقریبا 2 طلبہ جبری طور پر گمشدہ ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے طلبہ خاص کر پنجاب میں غیرمحفوظ ہیں، انہیں نسلی پروفائلنگ کا نشانہ بنانے کے عمل کو ختم ہونا چاہیے، تمام طالب علموں کو ہراسگی اور جبری گمشدگی کے خوف کے بغیر تعلیم کے حصول اجازت ہونی چاہیے۔

واضع رہے کہ گذشتہ روز سوشل میڈیا پر گردش کرتی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بی ایس ایجوکیشن کے آٹھویں سمسٹر کے طالب علم اور بلوچ کونسل کے رکن فرید حسین بلوچ کو مرکزی دروازے سے کیمپس کے باہر جاتے ہوئے 2 پولیس اہلکاروں اور سادہ لباس میں ملبوس 2 دیگر افراد نے روکا۔

فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ طالب علم نے گرفتاری کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے بھاگنے کی کوشش کی، مگر پولیس اہلکاروں نے اسے مارا اور اسے گھسیٹتے ہوئے ایک نجی کار میں ڈال دیا، جب پولیس اور سادہ لباس میں ملبوس افسران اسے گرفتار کرنے کے لیے کیمپس میں داخل ہوئے تو پنجاب یونیورسٹی کے سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے مداخلت نہیں کی گئی۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment