وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پرایک بیان میں کہاہے کہ طالب علم فرید بلوچ کی گرفتاری کی وڈیو وائرل ہونےکی وجہ سےلاپتہ تونہیں کرسکےلیکن اب جبری اغوا پرپردہ ڈالنےاور بلوچ طلب علم کو بدنام کرنےکیلئےان پر منشیات برآمدگی کامقدمہ درج کردیاجسکی مذمت کرتےہیں اور فرید بلوچ کی باعزت رہائی کامطالبہ کرتےہیں۔
واضع رہے کہ گذشتہ روز سوشل میڈیا پر گردش کرتی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بی ایس ایجوکیشن کے آٹھویں سمسٹر کے طالب علم اور بلوچ کونسل کے رکن فرید حسین بلوچ کو مرکزی دروازے سے کیمپس کے باہر جاتے ہوئے 2 پولیس اہلکاروں اور سادہ لباس میں ملبوس 2 دیگر افراد نے روکا۔
فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ طالب علم نے گرفتاری کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے بھاگنے کی کوشش کی، مگر پولیس اہلکاروں نے اسے مارا اور اسے گھسیٹتے ہوئے ایک نجی کار میں ڈال دیا، جب پولیس اور سادہ لباس میں ملبوس افسران اسے گرفتار کرنے کے لیے کیمپس میں داخل ہوئے تو پنجاب یونیورسٹی کے سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے مداخلت نہیں کی گئی۔