بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجرگہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک پریس ریلیز میں کوئٹہ میں اینٹی نارکوٹیکس فورس کے اسٹیشن پر حملے کی ذمہ داری قبول کرلی۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ بدھ کی شام سات بجے بلوچ سرمچاروں نے عارف گلی سریاب شال میں واقع انٹی نارکوٹکس فورس کے پولیس اسٹیشن پر دستی بم سے حملہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس حملے میں انٹی نارکوٹکس کو نشانہ بنایا گیا ہے جو کہ براہ راست قابض پاکستان فوج کے ماتحت کام کرتی ہے اور علاقے میں نارکوٹکس کی روک تھام میں کردار ادا کرنے کی بجائے بین الاقوامی اداروں کو دھوکے دے کر اپنے مینڈیٹ کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی فوج کے مفادات کو تحفظ فراہم کر رہی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان میں پاکستانی فوج کا منشیات کے پھیلاؤ میں کلیدی کردار ہے جبکہ دنیا کو دکھانے کے لیے انٹی نارکوٹکس فورس کا قیام عمل لایا گیا ہے جو کہ پاکستان کے اعلیٰ فوجی افسران کے منشیات کے کاروبار کو تحفظ فراہم کر رہی ہے۔ 1973 میں پاکستان نے اقوام متحدہ کے نارکوٹکس کنٹرول کنونشن کے دباؤ میں نمائشی انٹی نارکوٹکس فورس کی بنیاد رکھی لیکن یہ ادارہ کبھی آزادانہ طور پر کام نہیں کرسکا۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی اداروں کو چاہیے کہ قابض پاکستان کی فوج اور ان سے منسلک اداروں کے ساتھ شراکت سے گریز کریں جن کے منشیات کے کاروبار میں شراکت کے واضح ثبوت موجود ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ بی ایل ایف کو اپنی سرزمین پر قابض فورس کسی بھی شکل میں قبول نہیں۔ بلوچستان کی آزادی تک یہ حملے جاری رہیں گے۔