اسرائیلی وزیرِ دفاع کا کہنا ہے کہ حماس کے ساتھ جنگ ختم ہونے کے بعد اسرائیل غزہ کی پٹی میں کی کوئی ’ذمہ داری‘ نہیں لے گا۔
پارلیمنٹ کی خارجہ امور اور دفاعی کمیٹی کو بریفنگ کے دوران یواو گیلنٹ نے ساحلی علاقے کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کو اسرائیل کی فوجی مہم کا ایک مقصد قرار دیا۔
ایک بیان کے مطابق گیلنٹ نے ’حماس کے خاتمے اور ان کی فوجی اور حکومتی صلاحیتوں کو تباہ کرنے‘ اور ’خطے میں سلامتی اور امن کے قیام‘ سے متعلق ایک خاکہ پیش کیا۔
اسرائیل نے 2005 میں غزہ سے اپنی افواج اور آباد کاروں کو واپس بلا لیا تھا، حالانکہ اس نے اپنی فضائی حدود، مشترکہ سرحد اور ساحل پر کنٹرول برقرار رکھا تھا۔
غزہ کا بیرونی دنیا سے رابطے کا زیادہ تر انحصار اسرائیل پر ہے کیونکہ فلسطینی علاقے کی زمین اور سمندری سرحدوں کا 90 فی صد حصہ اسرائیل کے کنٹرول میں ہے۔
سن 2007 میں غزہ کی پٹی کا کنڑول اسلامی عسکریت پسند گروپ حماس کے پاس آنے کے بعد سے اسرائیل نےاس علاقے کی ناکہ بندی کر رکھی ہے اور غزہ کی درآمدات اور برآمدکے ساتھ ساتھ وہاں آنے جانے والوں پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے۔
غزہ کی سرحد کا کچھ حصہ مصر سے ملحق ہے جہاں رفح نامی سرحدی گزر گاہ ہے۔ بیرونی دنیا سے براہ راست رابطے کا یہ واحد سرحدی راستہ ہے جو حماس کے کنٹرول میں ہے۔
تاہم مصر زمینی حالات اور خطے کی صورت حال کے پیش نظر حماس کو اپنے استحکام کے لیے ایک خطرہ سمجھتے ہوئے اسرائیلی ناکہ بندی کی عمومی طور پر حمایت کرتا ہے۔