مصر نے غزہ میں امداد کے 20 ٹرکوں کو داخل کرنے کے لیے رفح کراسنگ کھولنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے اس سے قبل یہ اعلان کیا تھا اور اب مصر نے تصدیق کی ہے کہ غزہ کی پٹی تک انسانی امداد اس کراسنگ سے گزرے گی۔
مصر کے صدارتی ترجمان احمد فہمی نے ایک بیان میں کہا کہ مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی اور امریکی صدر جو بائیڈن نے رفح ٹرمینل کے ذریعے غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کی پائیدار فراہمی پر اتفاق کیا ہے۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی بات چیت کے بعد ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ امداد دونوں ممالک کے متعلقہ حکام امریکہ کی نگرانی میں بین الاقوامی انسانی حقوق کے گروپوں کے ساتھ تعاون سے فراہم کریں گے۔
اس سلسلے میں امریکی صدر بائیڈن نے سڑکوں کی مرمت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کھیپ ممکنہ طور پر جمعے تک سرحد عبور نہیں کر سکے گی۔
انھوں نے بتایا کہ ’وہ سڑک کی مرمت کر رہے ہیں، انھیں ان ٹرکوں کو گزارنے کے لیے گڑھوں کو بھرنا پڑے گا اور ایسا کیا جا رہا ہے۔ انھیں توقع ہے کہ جمعرات کو اس میں تقریبا آٹھ گھنٹے لگیں گے۔ لہٰذا اس وقت تک کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔‘
انھوں نے بدھ کو نامہ نگاروں کو بتایا کہ شاید یہ جمعے تک ممکن ہو۔
انھوں نے مزید کہا کہ 20 ٹرک پہلے مرحلے میں جائیں گے لیکن انھوں نے واضح کیا کہ ’مجموعی طور پر 150 یا اس سے زیادہ‘ ٹرکوں نے جانا ہے۔ انھیں پار جانے کی اجازت اس پر پر منحصر ہے کہ یہ مرحلہ کیسا جاتا ہے۔
واضع رہے کہ رفح کراسنگ ایک سرحدی کراسنگ ہے جو غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع ہے۔ یہ غزہ کی پٹی کو مصر کے صحرائے سینا سے ملاتا ہے۔
اس کے علاوہ غزہ کی پٹی میں دو اور سرحدی گزرگاہیں ہیں، ایریز اور کریم شالوم۔ ان میں سے ایریز کراسنگ شمالی غزہ کو اسرائیل سے ملاتی ہے۔کریم شالوم بھی اسرائیل اور غزہ کے درمیان ایک کراسنگ ہے لیکن اسے صرف تجارتی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ دونوں سرحدی گزرگاہیں حماس کے خلاف اسرائیل کی جوابی کارروائی شروع ہونے کے بعد سے بند ہیں۔
اسرائیل پر حماس کے حملے کے چند ہی دن بعد، اسرائیل نے اعلان کیا کہ ایریز اور کیرم شالوم کراسنگ اگلے نوٹس تک بند رہے گی۔
ایسے میں عام فلسطینیوں کے لیے غزہ کی پٹی سے نکلنے کا واحد راستہ رفح کراسنگ بن گیا ہے۔