امریکی صدر جو بائیڈن نے غزہ کے اسپتال پر دھماکے سے متعلق کہا ہے کہ بظاہر یہ کارروائی اسرائیل نے نہیں کی بلکہ دوسری جانب سے ہوئی ہے۔
صدر بائیڈن بدھ کو تل ابیب کے بن گورین ایئرپورٹ پہنچے جہاں اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو نے گرمجوشی سے ان کا استقبال کیا۔
صدر بائیڈن کے دورے کا مقصد حماس کے حملوں کے بعد اسرائیل سے اظہارِ یکجہتی ہے۔
خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق امریکی صدر نے اسرائیلی وزیرِ اعظم سے گفتگو کے دوران کہا کہ انہیں غزہ کے اسپتال میں دھماکے کا بہت دکھ اور غصہ ہے۔
جو بائیڈن نے مزید کہا کہ بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو لا علم ہیں کہ اسپتال میں دھماکہ کیسے ہوا۔
صدر جو بائیڈن کو اسرائیل کے دورے کے بعد اردن جانا تھا جہاں ان کی عرب رہنماؤں سے ملاقات طے تھی۔تاہم منگل کو غزہ میں اسپتال پر حملے کے بعد یہ ملاقات منسوخ کر دی گئی تھی۔
منگل اور بدھ کی درمیانی شب غزہ کے الاہلی اسپتال پر میزائل حملے میں لگ بھگ 500 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ غزہ کی منتظم عسکری تنظیم حماس نے اس حملے کا الزام اسرائیل پر عائد کیا ہے جب کہ اسرائیلی فورسز کا دعویٰ ہے کہ غزہ کی ایک اور عسکری تنظیم ’اسلامی جہاد‘ کی جانب سے داغا گیا میزائل خطا ہوا جس سے اسپتال نشانہ بنا ہے۔