اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوتیریز نے اسرائیل اور غزہ جنگ میں فوری طور پر ’انسانی بنیادوں پر جنگ بندی‘ کا مطالبہ کیا ہے۔
بیجنگ میں ایک فورم سے خطاب کرتے ہوئے جہاں چینی صدر شی اور روسی صدر پوتن دونوں ہی موجود تھے، انھوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ انھیں لگتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جو کچھ ہو رہا ہے اس پر توجہ دینا ہو گی۔
انھوں نے کہا کہ ’میں فوری طور پر انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کا مطالبہ کرتا ہوں۔۔۔ اس ہولناک انسانی بحران کو کم کرنے کے لیے جس کا ہم مشاہدہ کر رہے ہیں۔
‘ انھوں نے کہا کہ ’ہمیں انسانی جانوں اور پورے خطے کی صورتحال کو توازن رکھنا ہو گا۔‘
اقوام متحدہ نے خبردار کردیا ہے کہ غزہ سے جبری نقل مکانی کا اسرائیلی حکم انسانیت کے خلاف جرم ہے، اس پر بین الاقوامی فوجداری عدالت سزا دے سکتی ہے۔
اقوام متحدہ نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے روزانہ جنگی قوانین اور عالمی انسانی قوانین کی خلاف ورزیوں کی اطلاعات مل رہی ہیں، فلسطینیوں کوغزہ سے نکلنے کا اسرائیلی حکم غیر قانونی سمجھا جائے گا۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق کی ترجمان نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج کو شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے سے روکا جائے۔