غزہ کے اسپتال پر حملہ، کم از کم 500 افراد ہلاک، حماس و اسرائیل انکاری

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

منگل کی شب غزہ میں زخمیوں اور پناہ گزینوں کے ایک اسپتال پر میزائل حملے کے نتیجے میں غزہ کی وزارت صحت کے مطابق کم از کم 500 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اسرائیلی فورسز اس حملے کے لیے غزہ کے عسکری گروہ کو جب کہ حماس اسرائیل کو ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔

حماس نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیل نے فضائی حملے میں اسپتال کو نشانہ بنایا ہے۔

دوسری جانب اسرائیل کی فوج نے ایک عسکری گروہ اسلامک جہاد پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی جنگجوؤں کی جانب سے فائر کیا گیا ایک راکٹ غلط نشانے پر لگا جس کے سبب یہ سب ہوا ہے۔

غزہ کے عسکری گروہ اسلامک جہاد نے اسرائیل کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل اس قتلِ عام کی ذمے داری سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اس سلسلے میں امریکی صدارتی دفتر وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کی جانب سے غزہ کے ہپسپتال پر حملے کے ’واضح طور پر‘ انکار کو تسلیم کرتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جان کربی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’اسرائیل نے واضح طور پر اور سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا اس حملے سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔‘

اسرائیلی فوج نے الزام لگایا ہے کہ غزہ کا الاہلی ہسپتال فلسطینی عسکریت پسندوں کی جانب سے داغے جانے والے راکٹوں کا نشانہ بنا۔

ایکس(سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پیغام میں آئی ڈی ایف کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ فوج کے آپریشنل نظام کے تجزیے سے اشارہ ملتا ہے کہ جب الاہلی ہسپتال نشانہ بنا اس وقت غزہ سے داغے جانے والے راکٹ اس کے قریب سے گزر رہے تھے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ’متعدد ذرائع سے ملنے والی معلومات سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ اسلامک جہاد نے وہ راکٹ داغا جس سے غزہ کا ہسپتال نشانہ بنا۔

اسرائیلی افواج کے ترجمان کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہسپتال ایک انتہائی حساس عمارت ہے اور یہ اسرائیلی افواج کا ہدف نہیں۔ آئی ڈی ایف دھماکے کے ماخذ کی تحقیقات کر رہی ہے اور ہمیشہ کی طرح درست اور قابلِ بھروسہ معلومات کو ترجیح دے رہی ہے‘۔

Share This Article
Leave a Comment