تربت میں ریاستی آلہ کار عزیز پُلی کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا، بی ایل ایف

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان نے میجر گھرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک پریس ریلیز میں تربت میں ریاستی آلہ کار عزیز پُلی کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی ۔

ترجمان کے مطابق عزیز عرف پُلی ولد ملا موسیٰ ساکن بہمن تربت گزشتہ کئی سالوں سے ریاستی ایجنٹ کے طور پر تحریک کے خلاف سرگرم عمل تھا، گزشتہ ایک سال سے بی ایل ایف کا انٹیلی جنس ونگ ان پر کڑی نظر رکھا ہوا تھا وہ تربت کے علاقے گوکدان، ڈنُک، بہمن، نوک آباد اور ملحقہ علاقوں میں سرچ آپریشن اور گھروں پر چھاپوں میں فوج کا ساتھ تھا، جہدکاروں اور عام بلوچوں کی اغوا میں براہ راست ملوث تھا۔

بیان میں کہا گیا کہ عزیز پُلی منشیات کے کاروبار کے ساتھ ساتھ سماجی برائیوں میں بھی ملوث تھا۔وہ بلوچ لڑکیوں کو بلیک میل کرکے، ڈرا دھمکا کر اور لالچ دیکر فوجی کیمپوں میں لے جاتا تھا

انہوں نے کہاکہ عزیز کئی مہینوں تک ڈیتھ اسکواڈ سرغنہ یاسر بہرام کا کارندہ اور گارڈ تھا بعد میں انہوں نے ایک اور ریاستی گروپ جوائن کیا انکی نیٹ ورک کے تمام لوگوں کی اطلاعات بمعہ ثبوت تنظیم کے پاس موجود ہیں، وہ پہلے تربت میں ایم آئی کے مین کیمپ میں منسلک تھا لیکن کچھ وقت پہلے وہ 106 ونگ کے ڈی بلوچ کیمپ میں رپورٹنگ کرتا تھا اور وہیں ان کا آنا جانا تھا۔

ترجمان کے مطابق گزشتہ رات تنظیم کا انٹیلی جنس نے ان کی موجودگی کا اطلاع دیا تو اسپیشل ٹیم نے تربت کے علاقے اولڈ بہمن میں چھاپہ مارکر ان کو گرفتاری پیش کرنے کو کہا، مزاحمت کرنے پر انہیں فائرنگ کرکے موقع پر ہلاک کردیا۔

بیان میں کہا گیا کہ بی ایل ایف کے آپریشن کلین اپ دشمن کے آخری آلہ کار و مخبر کے خاتمے تک شدت سے جاری رہے گا۔

Share This Article
Leave a Comment