ناگورنو کاراباخ پر آذربائیجان کا جھنڈا لہرا دیا گیا

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read
فوٹو: Resul Rehimov/AA/picture alliance

تین دہائیوں تک آرمینیا کے علیحدگی پسندوں کے زیرِ انتظام رہنے والے اس علاقے پر اب آذربائیجان کا جھنڈا بلند کیا گیا ہے۔

گزشتہ ماہ سے جاری کارروائیوں کے نتیجے میں نسلی آرمینیائی باشندوں کی نقل مکانی کا سلسلہ مکمل ہونے کے بعد آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے آج ناگورنو کاراباخ میں آذربائیجان کا جھنڈا لہرا دیا ہے۔ صدر کا ناگورنو کاراباخ کا یہ پہلا دورہ تھا۔

یہ علاقہ 1990 سے اب تک آرمینیا کے قبضے میں تھا۔ باکو حکومت کی جانب سے اس دورے کی تصاویر بھی شائع کی گئیں۔ یہ علاقہ رواں سال 24 ستمبر کے بعد سے ہونے والے تنازعات کے بعد اب آذربائیجان کی فوج کے قبضے میں ہے اور اسے مکمل طور پر آرمینیائی علیحدگی پسندوں سے خالی کروا لیا گیا ہے۔ یہ علیحدگی پسند تین دہائیوں سے اس علاقے پر قابض تھے۔

صدر کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، جمہوریہ آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے خنکندی‘ شہر میں جمہوریہ آذربائیجان کا قومی پرچم بلند کیا اور عوام سے خطاب کیا۔‘‘

اندازوں کے مطابق اس علاقے میں رہائش پذیر سوا لاکھ سے زائد آرمینیائی باشندے واپس آرمینیا کا رخ کر چکے ہیں۔ صدر کا یہ دورہ آذربائیجان کے صدر بننے کے 20 سال بعد ہوا ہے۔ اپنی آمرانہ حکومت کے دوران علیوف نے کاراباخ کو دوبارہ آذربائیجان کا حصہ بنانے کی ٹھان لی تھی۔

باکو حکومت کی جانب سے شائع کردہ تصاویر میں صدر کو جھنڈے کی تعظیم میں گھٹنوں پر بیٹھے اور پرچم کو بوسہ دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے شہر کے کئی تاریخی مقامات کا دورہ بھی کیا۔

آذربائیجان اور آرمینیا کے مابین ناگورنو کاراباخ پر تنازعہ سوویت یونین کے زوال کے بعد سے جاری ہے۔ ناگورنو کاراباخ کے پہاڑی علاقے میں بنیادی طور پر آرمینیائی آباد تھے اور 1917 میں روسی سلطنت کے زوال کے بعد آذربائیجان کا حصہ بن گیا۔ ان دونوں ممالک کے مابین 1990 اور 2020 میں اسی مسئلے پر تنازعات ہو چکے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment