لبنان میں جنگ بندی کیلئے مذراکرات اورا سرائیلی حملے ایک ساتھ جاری

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

لبنان میں جنگ بندی کیلئے امریکا اسرائیل اور لبنان کے درمیان واشنگٹن میں مذراکرات جاری ہیں جبکہ ساتھ ہی لبنان پر ا سرائیلی حملے بھی جاری ہیں۔

تین دہائیوں کے بعد واشنگٹن میں لبنان سے پہلی سفارتی بات چیت کے اگلے ہی روز اسرائیل نے لبنان میں مزید حملے کیے ہیں۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ تمام غیر ریاستی دہشت گرد گروہوں کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ یہ اشارہ حزب اللہ کی جانب ہے، جو ان مذاکرات کا حصہ نہیں تھی۔

اسرائیلی فوج کے مطابق گذشتہ چند دنوں کے دوران ’حزب اللہ کے جنگجوؤں اور عسکری انفراسٹرکچر‘ کو نشانہ بنایا گیا ہے اور ’حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔‘

گذشتہ روز واشنگٹن میں اسرائیل لبنان مذاکرات کے حوالے سے امریکی بیان میں کہا گیا کہ امریکہ ’دونوں ممالک میں مزید مذاکرات کی حمایت کرتا ہے۔‘

ساتھ ہی لبنان کی حکومت کے اس منصوبے کی بھی حمایت کی گئی جس کے تحت ایران کے اثر و رسوخ کا خاتمہ کرنے کے لیے طاقت کے استعمال پر ریاست کی اجارہ داری بحال کی جائے۔

ادھر امریکہ میں لبنان کی سفیر ندا حمادہ معوض کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ہونے والی ابتدائی بات چیت ’نتیجہ خیز‘ رہی۔

منگل کے روز ہونے والے مذاکرات کے بعد جاری ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے نومبر 2024 میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے پر ’مکمل عمل درآمد کی فوری ضرورت‘ پر زور دیا۔

یاد رہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان 13 ماہ تک جاری رہنے والی لڑائی کے بعد یہ معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کو جنوبی لبنان میں اپنی مسلح موجودگی ختم کرنے کے لیے 60 دن دیے گئے تھے۔

ندا حمادہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے جنگ بندی کے ساتھ ساتھ بے گھر افراد کی اپنے گھروں کو واپسی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ انھوں نے لبنان کی ’تمام لبنانی علاقوں پر مکمل خودمختاری‘ اور تنازع کے باعث پیدا ہونے والے ’شدید انسانی بحران‘ میں کمی کے لیے اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

لبنانی سفیر کا کہنا ہے کہ آئندہ مذاکرات کی تاریخ اور مقام کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

واشنگٹن میں ہونے والی بات چیت میں امریکی نمائندے بھی شریک تھے۔ امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن ڈی سی میں آج ہونے والی بات چیت کے بعد اسرائیل اور لبنان کے درمیان براہِ راست مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔

جبکہ اسرائیلی سفیر کا دعویٰ تھا کہ ہم اس بات پر متفق ہیں کہ لبنان کو اُس طاقت کے چنگل سے آزاد کرایا جائے جس پر ایران حاوی ہے اور جسے حزب اللہ کہا جاتا ہے۔

Share This Article