امریکی حکام نے کہا ہے کہ اسرائیل اور عسکریت پسند گروپ حماس کے درمیان جاری جنگ مشرق وسطیٰ میں ایک بڑے تصادم کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
اعلی امریکی حکام کا اتوار کو کہنا تھا کہ انہیں خدشہ ہے کہ لبنانی گروپ حزب اللہ اسرائیل کے شمال پر حملہ کر سکتا ہے یا اس میں ایران ملوث ہو سکتا ہے۔
امریکہ کی اسرائیل اور حماس کی جنگ کو پھیلنے سے بچانے کی سفارتی کوششوں کے سلسلے میں وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے مشرق وسطی کے کئی ممالک کے دورے کیے ہیں۔
اتوار کو وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے سی بی ایس چینل کو کو بتایا کہ "اس تنازعہ کے بڑھنے، شمال میں دوسرا محاذ کھولنے اور یقیناً ایران کی شمولیت کا خطرہ ہے۔”
غزہ کی پٹی چھوڑنے کے لیے لوگ مصر کی سرحد پر رفح کراسنگ کھلنے کے انتظار کر رہے ہیں۔
اس خدشے کی بازگشت وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے بھی کی۔
انہوں نے فاکس نیوز کو بتایا کہ وائٹ ہاؤس "اس تنازعہ کے ممکنہ اضافے یا وسیع ہونے” کے بارے میں فکر مند ہے۔
دریں اثنا خبر رساں ادارے رائٹرز نے اتوار کو خبر دی کہ امریکی جنگی بحری جہازوں کا ایک اور سیٹ طاقت کے مظاہرے میں اس خطے کی طرف روانہ کیا گیا جس کا مقصد اس طرح کے بڑھتے ہوئے واقعات کو روکنا تھا۔
امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے ہفتے کے روز دوسرے کیریئر گروپ کی تعیناتی کا اعلان کیا تھا۔
رائٹرز کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان نے خبردار کیا ہے کہ ان کا ملک کارروائی کر سکتا ہے۔
انہوں نے الجزیرہ نیوز جینل کو بتایا کہ ایران نے اسرائیلی حکام کو یہ پیغام پہنچا دیا ہے کہ "اگر وہ غزہ میں اپنے مظالم بند نہیں کرتے تو ایران محض مبصر نہیں رہ سکتا۔”
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جنگ کا دائرہ وسیع ہوتا ہے تو امریکہ کو بھی بھاری نقصانات اٹھانا پڑیں گے۔