افغانستان : شیعہ مسجد میں خودکش دھماکہ، 7 افراد ہلاک ، متعدد زخمی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

شمالی افغانستان میں واقع ایک شیعہ مسجد میں خودکش بم دھماکے سے کم از کم 7 افراد ہلاک اور دیگر 15 نمازی زخمی ہو گئے۔

خودکش دھماکہ اس وقت ہوا جب مسجد میں جمعے کی نماز ادا کی جا رہی تھی۔

رائٹرز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے تمام افراد کا تعلق شیعہ مسلک سے تھا۔

پولیس کے ترجمان شیر احمد برہانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حملہ بغلان صوبے کے صدر مقام پلِ خمری شہر میں ہوا۔

سیکیورٹی اہل کار یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ حملہ آور امام زمان مسجد پر حملہ کرنے کے لیے اس علاقے میں کیسے پہنچا۔

فوری طور پر کسی گروپ یا فرد نے خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ نہیں کیا، لیکن امکان یہ ہے کہ اس کی ذمہ داری کاالزام داعش پر عائد کیا جائے گا، جو اسلامک اسٹیٹ خراسان کے نام سے بھی موسوم ہے ۔

یہ گروپ ماضی میں بالخصوص شیعہ اقلیت کے خلاف بڑے پیمانے پر دہشت گرد حملوں میں ملوث رہا ہے۔

طالبان کی جانب سے جاری ہونے والی فوٹیج میں مسجد کے اندر سرخ قالین پر بکھرے ہوئے ملبے میں نمازیوں کی ذاتی اشیا اور چادروں سے ڈھکی ہوئی لاشیں دکھائی دے رہی ہیں۔

اسلامک اسٹیٹ خراسان نے اگست 2021 میں افغانستان کے اقتدار پر طالبان کے قبضے کے بعد سے ملک بھر میں مساجد اور اقلتیوں پر حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment