ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز تمام غیر دشمن ممالک کے بحری جہازوں کے لیے کھلا ہے، تاہم ’’ایرانی سرزمین پر جارحیت کرنے والوں‘‘ پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔
صدر نے یہ مؤقف سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں اختیار کیا۔
پیزشکیان کے مطابق ’’امریکہ کی جانب سے ایران کو نقشے سے مٹانے کا فریب مایوسی کی علامت ہے‘‘۔
انہوں نے کہا کہ ایک تاریخ ساز قوم کی مرضی کے مقابلے میں ایسی دھمکیاں ’’مایوسی اور کمزوری‘‘ کو ظاہر کرتی ہیں، جبکہ ’’دھمکیاں اور دہشت گردی ہماری یکجہتی کو مزید مضبوط کرتی ہیں‘‘۔
ایرانی صدر نے مزید کہا کہ ایران کسی بھی ممکنہ جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے اور ’’ہم جنگ کے میدان میں بے بنیاد دھمکیوں کا ڈٹ کر جواب دیں گے‘‘۔
دوسری جانب ایران کے جنوبی شہر بندر عباس میں نشریاتی مرکز پر حملے میں کم از کم ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔
پاسداران انقلاب سے منسلک نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق حملے میں خلیج فارس ریڈیو اور ٹیلی وژن سینٹر کے ایک ٹرانسمیٹر کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک محافظ ہلاک اور ایک شخص زخمی ہوا۔
ایران نے اس حملے کا الزام امریکہ اور اسرائیل پر عائد کیا ہے، تاہم آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔