اسرائیل اور حماس جنگ چھٹے روزمیں داخل ہوگیا ہے ۔ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 2500 تک پہنچ چکی ہے جبکہ اسرائیلی فضائیہ کے غزہ پر لگاتار حملے جاری ہیں۔
فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ سنیچر کے روز حماس کے عسکریت پسندوں کے تباہ کن حملے کے جواب میں اسرائیل کی جانب سے علاقے میں فضائی حملے شروع کیے جانے کے بعد سے اب تک 1200 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
دونوں اطراف سے ہلاکتوں کی تعداد اب تقریباً 2500 ہے۔
قبل ازیں اسرائیلی دفاعی افواج نے کہا تھا کہ ہفتے کے اختتام پر حماس کے مسلح افراد نے 1200 اسرائیلیوں کا قتل عام کیا ہے اور ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔
اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیل کے فضائی حملوں کی وجہ سے 338,000 سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
غزہ میں انتہائی ضروری امداد اور ادویات کی فراہمی کے لیے محفوظ راستے کی اجازت دینے کے مطالبات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
فلسطینیوں کو جنگ زدہ علاقے سے نکلنے کی اجازت دینے کے لیے ایک انسانی راہداری کا بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے، جہاں فضائی حملوں میں بہت سے گھروں پر گولہ باری کی گئی ہے اور انھیں تباہ کر دیا گیا ہے۔
غزہ میں حکام کے مطابق غزہ سے مصر جانے والا اہم راستہ رفح کراسنگ منگل سے اسرائیلی بمباری کے بعد بند ہے۔
اسرائیلی فوجی پہلے ہی زمینی حملے کی تیاری کے لیے غزہ کی سرحد کے قریب جمع ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی بمباری اور ناکہ بندی کے دوران شہریوں تک خوراک، ایندھن اور پانی کی ضروری اشیا پہنچانے کی اجازت دی جائے۔
انتونیو گوتریس کا کہنا ہے کہ ہمیں فوری اور بلا روک ٹوک انسانی امداد کی ضرورت ہے۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکہ اسرائیل، اقوام متحدہ اور مصر کے ساتھ کچھ امداد کی اجازت دینے کے لیے بات چیت کر رہا ہے۔
غزہ کا واحد بجلی گھر بند کر دیا گیا ہے کیونکہ اسرائیل نے بجلی کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ادویات، خوراک، ایندھن اور پانی سمیت اشیاء کی فراہمی بھی منقطع کر دی ہے۔
دریں اثنا اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ غزہ کے قریب لاکھوں فوجی موجود ہیں جو ہمیں دیے گئے مشن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تیار ہیں۔
حماس کے حملوں میں اسرائیل میں ہلاکتوں کی تعداد 1200 تک پہنچ گئی ہے جبکہ غزہ پر اسرائیلی فضائی حملوں میں 1100 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
سنیچر کے روز حماس کے حملوں کے بعد سے اب تک 17 برطانوی شہری ہلاک یا لاپتہ ہو چکے ہیں ۔