فلسطین کی اسلامی شدت پسند گروپ حماس نے کہا ہے کہ اسرائیل نے جب بھی غزہ میں شہریوں کو ان کے گھروں میں نشانہ بنایا تو وہ ایک اسرائیلی سویلین قیدی کو کسی پیشگی وارننگ کے بغیر ہلاک کر دے گا۔
قاسم بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ نے پیر کی رات جاری ایک ویڈیو میں کہا کہ گزشتہ گھنٹوں میں اسرائیل کی جانب سے شہریوں کے علاقوں پر شدید حملے دیکھے گئے ہیں جن میں لوگوں کے گھر تباہ ہو گئے ہیں ۔
ترجمان نے کہا کہ ہم نے اس سلسلے کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اب سے ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ اگر ہمارے لوگوں کے گھرو ں کو ہدف بنایا گیا تو ہم نے جن سویلینز کو یرغمال بنایا ہوا ہے ان میں سے ایک کو بڑے دکھ کے ساتھ مجبوراً ہلاک کر دیں گے۔
اسرائیلی وزیرخارجہ ایلی کوہن نے کسی بھی یرغمال کو نقصان پہنچانے کے خلاف انتباہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگی جرم کو معاف نہیں کیا جائے گا۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے ٹیلی وژن پر خطاب میں کہا کہ ہم نے حماس پر ابھی صرف حملوں کا آغاز کیا ہے ۔ ہم آنے والے دنوں میں اپنے دشمنوں کے ساتھ کیا کریں گے اسے وہ کئی نسلوں تک یاد رکھیں گے.
نیتن یاہونے پیر کے روز قوم سے اپنے خطاب میں کہا کہ اسرائیل نے حماس اور لبنان میں حزب اللہ کے خلاف بڑے حملے کی منصوبہ بندی کر لی ہے۔
واضع رہے کہ حماس و اسرائیل مابین جھڑپوں میں اسرائیل میں 900 کے لگ بھگ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جب کہ غزہ کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ اسرائیلی بمباری اور حملوں سے 680 سے زیادہ فلسطینی ہلاک اور 3700 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔