بلوچی زبان کے نامور شاعر مبارک قاضی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ڈائریکٹوریٹ آف کلچر بلوچستان کے زیر اہتمام نوری نصیر خان کلچرل کمپلیکس کے کانفرنس روم میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد ہوا۔
پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا ڈپٹی ڈائریکٹر خدا رحیم نے تلاوت کلام پاک سے پروگرام کا آغاز کیا پروگرام آفیسر عمرفاروق نے مبارک قاضی اور سانحہ مستونگ کے شہدا کی مغفرت کے لئے دعا کی۔ پروگرام میں بلوچی زبان و ادب کی معروف شخصیات کے علاوہ خانہ فرہنگ ایران کے ڈائریکٹر جنرل ابوالحسن میری نے بھی شرکت کی اور مبارک قاضی کی بلوچی زبان وادب کے لئے خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ نہ صرف بلوچستان بلکہ ایران میں بھی جانے پہچانے جاتے ہیں۔
انہوں نے خانہ فرہنگ ایران کی جانب سے مبارک قاضی کی شاعری کو فارسی زبان میں ترجمہ کرانے اور جلدہی بلوچی، براہوی اور پشتو زبان میں مشاعرے کے انعقاد کی بھی خوشخبری سنائی اور ایران اور پاکستان کے ثقافتی رشتے کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے سانحہ مستونگ پر حکومت پاکستان بالخصوص حکومت بلوچستان سے افسوس کا اظہار کیا۔
ایران کے تھئیٹر فیسٹیول میں ڈائریکٹوریٹ آف کلچر بلوچستان کی جانب سے تھیٹر کے فنکاروں کی شرکت کو خوش آئند قرار دیا۔ سیکریٹری کلچر جناب منظور حسین نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مرحوم مبارک قاضی کے لواحقین سے دلی تعزیت کی۔
اور انکی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو اجاگرکیا انہوں نے کہا کہ مبارک قاضی کی سوچ اور فکر انہیں بڑا شاعر بناتی ہے۔
پروگرام میں ڈاکٹر رحیم بخش مہر، ڈاکٹر زینت ثناء بلوچ، ممتاز یوسف، افضل مراد، ڈاکٹر قیوم بیدار، ڈاکٹر زاھددشتی، عبالحلیم مینگل اور بانک صورت بلوچ نے مبارک قاضی کے فن و شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا۔
تقریب میں سابق ڈائریکٹر داؤد ترین بھی شریک ھوئے۔
تقریب میں موجود طالب علموں نے خوش الہانی اور ترنم کے ساتھ مبارک قاضی کے اشعار پڑھ کر انہیں خراج تحسین پیش کیا۔