بھارت میں حکومت کی جانب سے دہلی سمیت درجنوں شہروں میں سینئرصحافیوں کے گھروں پر چھاپے مارکر گرفتاریاںکی گئی ہیں۔
بھارت میں منگل کے روز پولیس نے ایک معروف میڈیا ادارے نیوز کلک کی ویب سائٹ سے منسلک متعدد مقامات پر چھاپے کی کارروائی کی اور ادارے کے ایڈیر پربیر پرکائستھ کے ساتھ ہی بعض دیگر افراد کو گرفتار کر لیا۔ مودی حکومت نے ان پر چین سے فنڈز حاصل کرنے کا الزام لگایا ہے۔
نیوز کلک اپنے آن لائن پورٹل کو ایک ایسا آزاد میڈیا ادارہ بتاتا ہے، جو ترقی پسند تحریکوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے بھارت سمیت تمام جگہوں کی خبروں کو کور کرنے کے لیے وقف ہے۔ یہ ادارہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت پر تنقیدی کوریج کے لیے بھی معروف ہے۔
دہلی پولیس نے نیوز کلک کے بانی اور ایڈیٹر انچیف پربیر پورکائستھ کو منگل کے روز غیر قانونی سرگرمیوں کی (روک تھام) کے بد نا م زمانہ ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت ایک کیس کے سلسلے میں گرفتار کیا تھا۔ عدالت نے بدھ کی صبح انہیں سات دن کے لیے پولیس کی حراست میں بھیج دیا۔
ادارے کے ہیومن ریسورس کے سربراہ امیت چکرورتی کو بھی انہیں کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں بھی خصوصی عدالت نے پولیس کی حراست میں بھیج دیا ہے۔
دہلی میں پولیس چھاپوں کی نگرانی کرنے والے وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے کہا، ایک خصوصی تفتیشی ٹیم نے ان تمام افراد کی شناخت کے لیے ایک تلاشی آپریشن شروع کیا، جو ممکنہ طور پر غیر ملکی پروپیگنڈہ پھیلانے کے ایجنڈے کے ساتھ میڈیا گروپ چلانے کے لیے، بیرون ملک سے فنڈ حاصل کر رہے تھے۔
دہلی پولیس نے نیوز کلک کے مرکزی دفتر اور نیوز پورٹل سے منسلک تقریباً 40 صحافیوں اور کارکنوں کی رہائش گاہوں پر دن بھر چھاپے کی کارروائی کی اور الزام لگایا کہ اس ادارے نے چین نواز پروپیگنڈے کے لیے بیرون ملک سے رقم وصول کی۔ چھاپوں کے بعد پولیس نے دہلی میں نیوز کلک کے دفتر کو بھی سیل کر دیا۔
اس سلسلے میں تقریباً 50 صحافیوں سے پوچھ گچھ کی گئی اور ان کے لیپ ٹاپ، موبائل فون سمیت دیگر ڈیجیٹل ڈیوائسز اور دستاویزات کو جانچ کے لیے ضبط کر لیا گیا۔
سینیئر صحافی ارملیش، آنندیو چکرورتی، ابھیسار شرما، پرانجوئے گوہا ٹھاکرتا کے ساتھ ساتھ تاریخ دان سہیل ہاشمی اور طنز نگار سنجے راجورا اور سنٹر فار ٹیکنالوجی اینڈ ڈیولپمنٹ کے ڈی راگھونندن جیسی معروف شخصیات سے چھ گھنٹے سے بھی زیادہ وقت سے پوچھ گچھ کی اور پھر انہیں بعد میں جانے کی اجازت دے دی گئی۔
دیگر دو صحافیوں نے بتایا کہ پولیس نے ان کے گھروں پر چھاپوں کے دوران ان کے آلات ضبط کر لیے۔ صحافی ابھیسار شرما نے سوشل میڈیا پر لکھا، دہلی پولیس میرے گھر پر آئی۔ میرا لیپ ٹاپ اور فون چھین لیا۔
پریس کلب آف انڈیا کا کہنا ہے کہ وہ نیوز کلک سے وابستہ صحافیوں اور مصنفین کے گھروں پر مارے گئے متعدد چھاپوں کے بارے میں بہت فکر مند ہے۔اس نے مزید کہا کہ وہ صحافیوں کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے اور حکومت سے تفصیلات کے ساتھ آنے کا مطالبہ کرتا ہے۔
ادارے نے بدھ کے روز صحافیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ایک میٹنگ طلب کی ہے۔ ادارے نے حکومتی اقدام کے خلاف احتجاجی مارچ کی کال دی تھی تاہم پولیس نے اس کی بھی اجازت نہیں دی۔