پاکستان میں جعلی انجکشن لگنے سے 13 مریض بینائی سے محروم ہوگئے

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

پاکستان میں مقامی طور پر تیار کردہ انجکشن بظاہر ایک درجن سے زائد مریضوں میں اندھے پن کا باعث بنے ہیں۔

یہ اسکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد حکومتی اداروں نے باقاعدہ طور پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

پاکستان کے وزیر صحت نے اتوار کے روز کہا کہ ایک انجیکشن ایبل دوا ذیابیطس کے مریضوں کو دی گئی، جس سے مریضوں کی آنکھوں میں شدید انفیکشن پیدا ہوا اور کئی افراد بینائی سے بھی محروم ہو گئے۔

بیان کے مطابق صوبہ پنجاپ میں سپلائی ہونے والی یہ دوا مارکیٹ سے اٹھا لی گئی ہے جبکہ پولیس یہ دوائی سپلائی کرنے والوں کی تلاش میں ہے۔

وفاقی وزیر صحت ندیم جان نے اسلام آباد میں بتایا کہ مقامی طور پر تیار کردہ انجیکشن ایوسٹن کے دو مفرور سپلائرز کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پنجاب حکومت نے اس معاملے کا جائزہ لینے اور تین دن میں رپورٹ پیش کرنے کے لیے ماہرین کی ایک پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ تاہم اس حوالے سے کوئی حتمی نتیجہ رپورٹ کے بعد ہی اخذ کیا جا سکے گا۔

ندیم جان کے ساتھ ایک نیوز کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی وزیر صحت جمال ناصر نے کہا کہ لاہور، قصور اور دیگر اضلاع میں ذیابیطس کے مریضوں میں ریٹینا کے نقصان کو دور کرنے کے لیے ایوسٹن کے انجیکشن لگائے گئے تھے۔

تاہم یہ انجیکشن شدید انفیکشن کا باعث بنے، جس کے نتیجے میں ایک درجن سے زائد مریضوں کی بینائی ختم ہو گئی۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا ہے کہ حکومت متاثرہ افراد کو طبی امداد فراہم کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کرے گی۔

Share This Article
Leave a Comment