بلوچی زبان و بلوچستان کے عظیم شاعرو ادیب مبارک قاضی کے نا گہانی وفات پر پورے بلوچستان میں سوگ کا سماں ہے اور تمام حلقے انہیں ان کی عظمت پر خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں۔گذشتہ روز کراچی کے بلوچ علاقے لیاری ، ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت اور ضلع گوادر کے ساحلی علاقے جیونی میں واک ،ادبی پروگرام ،شمعیںجلاکر اورگیتگاکر مبارک قاضی کو خراج عقیدت پیش کیا گیا ۔
لیاری میں ہفتے کی شام کو آٹھ چوک سے اسٹریٹ لائبریری تک خاموش پیدل مارچ کیا گیا جسکے بعد شمعیں روشن کرکے انکے ادبی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں عزت بخشا گیا۔شرکا نے ہم زبان ہوکران کے گیت گاکر انہیں خراج عیدت پیش کیا۔
اس موقع پر ادبی شخصیات کے ساتھ سیاسی و سماجی جھدکار بھی موجود تھے۔ خواتین و بچوں نے بھی شرکت کرکے انہیں خراج تحسین پیش کیا۔
تربت میں تربت یونیورسٹی کے ہاسٹل میں مبارک قاضی کی یاد میں ایک ادبی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔
تقریب دو حصوں پر مشتمل تھی جن میں ایک حصے میں مبارک قاضی کی زندو فن پر گفتگو کی گئی جبکہ دوسرے حصے میں شرکاء شعر پڑھ کر انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔
اسی طرح ضلع گوادر کے ساحلی علاقے جیونی میں مبارک قاضی کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے ایک خاموش واک کا اہتمام کیا گیا اور شمعیں روش کئے گئے ۔
واک کا اہتمام جیونی ایجوکیشنل سوسائٹی اورجی آر ملا پبلک لائبریری نے کیا۔
اس موقع پر حامد خالق اورتاج بلوچ نے گیت گاکر مبارک قاضی کو خراج عقیدت پیش کیا۔