مبارک قاضی کی یاد میں تربت یونیورسٹی میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچی زبان و ادب کے عظیم عہدساز شاعر مبارک قاضی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے جامعہ تربت میں ایک تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا جس کی میزبانی جامعہ تربت کے انسٹی ٹیوٹ آف بلوچی لینگویج اینڈ کلچر (آئی بی ایل سی) نے کی۔

تعزیتی ریفرنس کی صدارت آئی بی ایل سی کے فیکلٹی ممبر ڈاکٹر طاہر حکیم نے کی جسکے مہمان خصوصی ادبی اسکالر اور مبارک قاضی کے قریبی دوست یوسف عزیز گچکی تھے جنہوں نے نامور شاعر مبارک قاضی کے ذاتی واقعات اور بلوچی ادب سے انکی والہانہ وابستگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان کی شاعری نے بلوچی زبان و ادب اور ثقافت پر لازوال نقوش چھوڑے ہیں اور ان کی شاعری کی جڑیں بلوچ معاشرہ، روایات اور اقدار میں پیوست ہیں۔ انہوں نے نئی نسل کواس بات کی ترغیب دی کہ وہ عہدساز شاعر مبارک قاضی کی شاعری کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کرنے کے علاوہ ان کی زندگی اور ادبی خدمات پر تحقیق کریں۔

جامعہ تربت کے انسٹیٹیوٹ اف بلوچی لینگویج اینڈ کلچر کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عبدالصبور بلوچ کی جانب سے ڈاکٹر طاہر حکیم نے تعزیتی ریفرنس میں شرکت کرنے والے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ مبارک قاضی کی شاعری اور سماجی زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر طاہر حکیم نے کہا کہ بلوچی زبان و ادب کے فروغ کے لیے مبارک قاضی کی لازوال وابستگی کو میڈیا کے علاہ ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے خوب سراہا ہے۔

لیجنڈ شاعر کی ادبی اور سماجی خدمات پر اظہار خیال کرتے ہوئے دیگر مقررین آئی بی ایل سی کے فیکلٹی ممبران ڈاکٹر غفور شاد اور طارق رحیم بلوچ، گرلز کالج تربت کی پرنسپل میڈم گل جان اور گرلز کالج تربت کی اسسٹنٹ پروفیسر میڈم شمس الٰہی بخش نے اظہارخیال کرتے ہوئے بلوچی زبان اور ثقافت کے فروغ کے لیے ممتاز شاعر کو ان کے بے مثال کام پر زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔

مقررین نے کہا کہ مبارک قاضی ایک اصول پسند انسان تھے جنہوں نے اپنے اصولوں اور نظریات پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ انہیں بلوچی ادب کے ایک چمکتے ستارے کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ تعزیتی ریفرنس میں جامعہ تربت کے ڈینز، ڈائریکٹرز، مختلف شعبہ جات کے سربراہان، فیکلٹی ممبران، زندگی کے مختلف طبقوں اور شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے علاوہ طلبہ وطالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

Share This Article
Leave a Comment