آذر بھائیجان میں نگورنو کاراباخ کے علیحدگی پسند ہفتے کے روز ہتھیار ڈال کر آذربائیجان کے حکام سے امن بات چیت میں مصروف ہیں۔ اس سے قبل آذری حکومت نے ہتھیار ڈالنے والوں کے لیے عام معافی کا اعلان کیا تھا۔
آذربائیجان کی فوج کے تیز رفتار آپریشن اور ہتھیار ڈالنے والے علیحدگی پسندوں کے لیے عام معافی کے اعلان کے بعد ہفتے کے روز آرمینیائی نسل علیحدگی پسندوں نے آذری حکام کے ساتھ بات چیت شروع کر دی ہے۔ اگر یہ سیزفائر قائم رہتا ہے تو قفقاذ خطے کے اس طویل تنازعے کا خاتمہ بھی ہو جائے گا۔ سابقہ سوویت یونین کے انہدام کے بعد سے آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان نگورنوکاراباخ کا خطہ مسلسل کشیدگی کا باعث رہا ہے۔ گزشتہ برس اس علاقے میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ بھی ہوئی تھی۔ تاہم آذربائیجان کی جانب سے اس علاقے پر قبضے اور محاصرے کے بعد آرمینیا نے نگورنوکاراباخ پر آذربائیجان کی ملکیت تسلیم کر لی تھی۔
جمعے کے روز ماسکو حکومت نے تصدیق کی تھی کہ باغی سب سے پہلے اپنے ہتھیار ڈالیں گے اور یہ عمل رواں ویک اینڈ تک جاری رہے گا۔ اس عمل میں روسی امن مشن معاونت بھی فراہم کر رہا ہے۔
دوسری جانب جرمنی نے مطالبہ کیا ہے کہ نگورنوکاراباخ کے پہاڑی خطے میں بسنے والے عام شہریوں کے حقوق کی یقینی بنائے جائیں۔ بین الاقوامی برادری کو خدشات ہیں کہ اس خطے میں بسنے والے آرمینائی نسل باشندوں کو شدید نوعیت کے مسائل ہو سکتے ہیں۔