خواتین حقوق کی عدم بحالی تک طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کرنا چاہیئے، افغان خواتین

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن یا یوناما کی ایک جائزہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیکڑوں افغان خواتین کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کو اس وقت تک طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کرنا چاہیئے جب تک وہ خواتین کے لیے کام کرنے اور تعلیم حاصل کرنے کے مواقع بحال نہیں کر دیتے۔

اقوام متحدہ کے اس سروے میں 592افغان خواتین نے حصہ لیا اور ان میں سے تقریبا 46 فیصد نے بتایا کہ عالمی ادارے کو ’’کسی بھی صورت‘‘ طالبان کو افغان حکومت کے طور پر تسلیم نہیں کرنا چاہیئے ۔سروے میں شامل جواب دینے والوں میں سے نصف کا کہنا تھا کہ طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کی کسی بھی صورت کو خواتین کے حقوق کے ساتھ منسلک کر دینا چاہیئے ۔ان حقوق میں عورتوں کے کام کرنے اور تعلیم کے حق بھی شامل ہیں۔

طالبان نے2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد لڑکیوں کے لیے سیکنڈری سکول اور یونیورسٹی کی تعلیم پر پابندی عائد کر دی تھی ۔اس پابندی کے نتیجے میں ان گنت لڑکیاں اور نوجوان خواتین تعلیم سے محروم ہو گئیں ۔ طالبان نے خواتین کے کام کرنے پر بھی پابندی لگا رکھی ہے۔

طالبان کی اسلامی حکومت نے خواتین پر متعدد پابندیاں لگا رکھی ہیں جن میں کھیلوں اور تفریح کے مقامات تک ان کی رسائی ختم کر دی گئی ہے۔ ان پابندیوں کو دیکھتے ہوئے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی علمبردار تنظیمیں یہ کہنے پر مجبور ہو گئیں کہ افغانستان ایک ایسا ملک ہے جہاں ’’صنفی امتیاز‘‘روا رکھا جاتا ہے۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن یا یوناما کی اس جائزہ رپورٹ کی شرکا نے اس تشویش کا اظہار کیا ہے کہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کے نتیجے میں لڑکیوں اور خواتین کے لیے حکمرانوں کی سخت گیر پالیسیوں میں اور شدت پیدا ہو سکتی ہے۔

Share This Article
Leave a Comment