جبری گمشدگیوں کو روکنے کیلئے حکمت عملی نہیں بنائی تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کریگی،واحد کمبر

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ قومی رہنما استاد واحد کمبر نے اپنے جاری بیان میں کہا ہےکہ بلوچستان کے دوسرے علاقوں کی طرح ڈیرہ بگٹی میں فوجی جارحیت بدستور جاری ہے جہاں سے لوگوں کو اٹھا کر جبری لاپتہ کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہاہے کہ بلوچستان میں گزشتہ 75 سالہ پاکستانی قبضے سے ریاستی جبر جاری ہے، بلوچ سر زمین پر پاکستان نے جبری قبضہ رکھا ہوا ہے اور ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو جبری گمشدگی کا شکار بنایا گیا ہے ۔

استادواحد کمبر کا کہنا تھا کہ قبضہ گیر ریاست نے بلوچستان کے ہر کونے میں جبر کو تیز کر دیا ہے، پاکستانی فورسز براہ راست بلوچ نسل کشی کر رہے ہیں۔ سیاسی کارکن، طلباء اور بلوچ خواتین اور بلوچ قومی جھد کاروں کے لواحقین کو بھی اجتماعی جبر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہاہے کہ اس جبر کو روکنے کیلئے اگر بلوچ رہنماؤں نے مل کر حکمت عملی نہیں بنائی تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ بلوچوں پر ہونے والے پاکستانی کی طرف سے جاری جبر پر دنیا نے اپنی آنکھیں موند لی ہیں، لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ بلوچ اکابرین آزادی کے حصول اور ریاستی مظالم کو روکنے کیلئے متحد ہو جائیں ۔

بلوچ رہنما استاد واحد کمبر نے آخر میں اقوام متحدہ سے اپیل کی کہ وہ ڈیرہ بگٹی میں جاری پاکستانی فوجی جارحیت کو روکنے میں کردار ادا کریں اور پورے بلوچستان نسل کشی اور بلوچ قوم کو ریاستی جبر سے نجات دلائیں ۔

Share This Article
Leave a Comment