بلوچستان کے علاقے نال میں ایک 8 سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا جبکہ کوئٹہ و تربت میں فائرنگ کے دو مختلف واقعات میں 2 افراد ہلاک ہوگئے ۔
ضلع خضدارکے علاقے نال میں ضلع جھل مگسی کے رہائشی عابد ماچھی جوکہ نال حری میں کاشت کاری ( بزگری)کرتے ہیں گزشتہ روز اس کی بیٹی 8 سالہ حمیرہ اچانک غائب ہوئی جو تلاش کے باوجو نہیں ملی۔
آج صبح کپاس کی فصل سے اس کی اپنے دوپٹے سے پھندہ لگی لاش ملی جسے فوری سول اسپتال نال لایا گیا۔
لاش کے معائنے کے بعد اسے ڈویژنل ہیڈ کوارٹر اسپتال خضدار منتقل کیا گیا۔
سول اسپتال نال کے ڈاکٹروں کے مطابق بچی کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی ہے۔،جس کے بعد بچی کو قتل کردیا گیاہے۔
نال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ 2 مشکوک افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
مزید تفتیش جاری ہے۔
دوسری جانب کوئٹہ کے علاقے علمدار روڈ ناصر آباد کے قریب رکشے کے اندر سواری نے رکشہ ڈرائیور کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا اور موقع سے فرار ہوگیا۔
قتل ہونے والے شخص کی شناخت مری آباد کے رہائشی 40 سالہ حسین ولد یعقوب علی ہزارہ کے نام سے ہوئی ہے۔
علاوہ ازیں تربت علاقے آپسر میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوگیا۔
ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت سیٹھ رشید کولوائی کے نام سے ہوگئی ہے ۔
پولیس ذرائع کے مطابق آپسر کے علاقے کہدہ یوسف محلہ اسکول کے کونہ پر موٹر سائیکل سوار مسلح شخص نے فائرنگ کرکے سیٹھ رشید کولوائی کو ہلاک کر دیا اور فرار ہوگئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ سیٹھ رشید کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنے گھر کولوائی بازار جارہے تھے۔
سیٹھ رشید کا تعلق کولواہ کے علاقہ بلور سے بتایا جاتا ہے تاہم وہ گزشتہ کچھ عرصے سے آپسر میں رہائش پذیر تھے۔اور اس کا تعلق پاکستان پیپلزپارٹی سے تھا۔
دوسری جانب علاقائی ذرائع بتاتے ہیں کہ سیٹھ رشید بلوچستان کے سابق وزیر ظہور بلیدی کے قریبی ساتھی تھے اور وہ منشیات کے کاروبار سے منسلک تھے۔ تاہم واقعے کے پیچھے محرکات کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔