بلوچستان حکومت نے کورونا وائرس کے ٹیسٹ سے متعلق اپنی پالیسی تبدیل کرتے ہوئے اب صرف مشتبہ مریضوں کے ٹیسٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
محکمہ صحت بلوچستان کے مطابق فاطمہ جناح لیبارٹری کو بند کردیا ہے جو واحد لیب تھی جہاں رہائشی اپنے کورونا وائرس کے ٹیسٹ کروا سکتے تھے۔
بیان میں کہا گیا کہ جن میں کورونا وائرس کا شبہ ہو ان کا صرف اس وقت ٹیسٹ کیا جائے گا جب وہ اپنے گھروں میں 14 روز قرنطینہ کا وقت گزار چکے ہوں۔
بلوچستان حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ لیبارٹری میں ٹیسٹ کی صلاحیت میں کمی کے باعث کیا گیا، 2 ہزار سے زائد ٹیسٹ کے نتائج پہلے ہی تاخیر کا شکار ہیں۔
تاہم محکمہ صحت بلوچستان کا یہ بیان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی کے دعوو¿ں کے برعکس ہے جنہوں نے کہا تھا کہ بلوچستان کو ٹیسٹنگ کٹس اور حفاظتی سامان کی کمی نہیں ہوگی۔
کوئٹہ میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ ‘ہم نے وفاقی حکومت سے 50 ہزار پی سی آر کٹس مانگی تھیں، لیکن ہمیں اتنی تعداد میں کٹس نہیں ملیں۔’
ان کا کہنا تھا کہ ‘وفاقی حکومت سے ہمیں 14 ہزار ٹیسٹنگ کٹس ملی ہیں جبکہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) سے کوٹی کٹس نہیں ملیں۔’
لیاقت شاہوانی نے کہا کہ محکمہ صحت میں تبادلوں کی وجہ سے گزشتہ دو روز سے ٹیسٹ کے نتائج تاخیر کا شکار ہیں، لیکن عملہ انتھک محنت کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ‘حکومت بولان میڈیکل کالج میں ایک اور لیبارٹری قائم کر رہی ہے جس سے صوبے کی ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت بڑھے گی اور یہ بڑھ کر 400 سے 450 ہوجائے گی۔’
ان کا کہنا تھا کہ وائرس کی شدت دیکھ کر صوبے میں لاک ڈاو¿ن میں نرمی، توسیع یا ختم کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔
ترجمان بلوچستان حکومت نے کہا کہ ‘اگر ہم صورتحال پر قابو پانے میں کامیاب رہے تو لاک ڈاو¿ن میں نرمی کردی جائے گی، لیکن اگر پھیلاو¿ جاری رہا تو اس میں توسیع ہوگی۔’
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو ہفتے کے دوران صوبے میں وائرس کی مقامی سطح پر منتقلی کے کیسز میں بہت اضافہ ہوا اور یہ سطح 88 فیصد تک ہوگئی ہے۔’
ان کا کہنا تھا کہ اس وجہ سے اموات کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے، پہلے مریضوں کی صحتیابی کا تناسب 55 فیصد تھا لیکن دو ہفتے سے اس میں کمی آئی ہے اور اب یہ صرف 15 فیصد پر آگیا ہے۔
لیاقت شاہوانی نے کہا کہ ‘ان ہی خطرناک اعداد و شمار کو نظر میں رکھتے ہوئے بلوچستان حکومت نے لاک ڈاو¿ن میں دو ہفتے کی توسیع کرتے ہوئے اسے 19 مئی تک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔’
انہوں نے عوام پر حکومت کے معیاری طریقہ کار (ایس او پیز) پر عمل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر لوگ ان پر عمل نہیں کریں گے تو حکومت کو مجبوراً سخت اقدامات کرنے ہوں گے۔’