بلوچستان کے صنعتی شہر حب میںدارو ہوٹل سے 14 روز قبل پر اسرار طور پر لاپتہ ہونے والے 25 سالہ نوجوان بھائی کی بہنیں اور اہل علاقہ نے انکی گمشدگی کا نوحہ لیکر کوئٹہ کراچی شاہراہ پر آگئے۔اور روڈ بلاک کر کے بھائی کی بازیابی کا مطالبہ کر تے رہے ۔
خواتین اور اہل علاقہ کے احتجاج کے سبب قومی شاہراہ پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں ۔
مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اس سلسلے میں بھوانی کے مقام پر کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ اہل علاقہ کے ہمراہ احتجاج کرنے والی خواتین کا کہنا تھا کہ 3ستمبر کو انکا 25سالہ بھائی اسرار ایک فون کال پر گھر سے نکلاجسکے بعد وہ آج تک واپس نہیں آیا۔
اس سلسلے میں انھوں نے علاقے کے معتبرین اور پولیس سے بھی مدد مانگی ہے لیکن ابھی تک انکے بھائی کا کوئی سراغ نہیں مل رہا ۔
خواتین کا مزید کہنا تھا کہ انکا بھائی ایک شریف النفس شخص ہے اور وہ اکثر گھر پر ہی رہتا تھا نہ تو انکا اور نہ ہ انکے بھائی اور خاندان کا کسی تنظیم و غیرہ سے تعلق ہے اور نہ ہی وہ کسی منفی سرگرمیوں میںملوث ہیں خواتین نے مقامی پولیس اور انتظامیہ سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ انکے بھائی کا سراغ لگایا جائے کیونکہ وہ انکا واحد سہارہ ہے دو بھائی دبئی میں محنت مزدوری کرتے ہیں ۔
اس موقع پر جے یو آئی رہنماءو میونسپل کارپوریشن حب کے کونسلر مولانا شاہ محمد صدیقی نے موقع پر پہنچ کر مظاہرین اور خواتین سے گفتگو کرتے ہوئے پولیس سے مطالبہ کیا کہ انکے بھائی اسرار کی تلاش میں انکی مدد کی جائے اور معاملے کا مقدمہ درج کیا جائے جس پر مظاہرین نے اپنا احتجاج ختم کیا۔