کوئٹہ میں قلات سے آئے پیدل لانگ مارچ شرکانے احتجاجی کیمپ قائم کرلیا۔آج دوسرے دن میرٹ کی پامالی کے خلاف احتجاجی کیمپ جاری رہا۔
کیمپ میں بیٹھے ہوئے سیاسی و قبائلی رہنما میر عبدالواحد پندرانی، جمعیت علما اسلام نظریاتی کے ضلعی جنرل سیکرٹری مولانا منیر احمد نیچاری، پریس سیکرٹری جمعیت (نظریاتی) اسرار احمد ساسولی، فضل اللہ عمرانی، قبائلی رہنما میر صدام حسین لہڑی، عبدالمالک نیچاری، ثنا اللہ، منیر احمد بنگلزئی و دیگر نے کہا کہ محکمہ صحت، زراعت، جنگلات سمیت دیگر محکموں میں میرٹ کی پامالی بندربانٹ اور سیٹیوں کی خرید و فروخت سے نوجوانوں کی حق تلفی ہوئی ہے ہم نے اپنے تعلیم یافتہ نوجوانوں کے بہتر مستقبل کو مد نظر رکھ کر اقدام اٹھایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج کے دور میں لوگ ایک کلو میٹر پید چلنے سے قاصر ہے جبکہ ہم نے قلات سے لیکر کوئٹہ پیدل لانگ مارچ کیا تاکہ نوجوانوں کو ان کا حق مل سکے۔ ایسے لوگوں کو بھرتی کیا گیا جنہوں نے ٹیسٹ و انٹرویو بھی نہیں دیئے ان کو فون ذریعے چوری چپکے سے آرڈرز جاری کئے گئے ہیں۔
نہوں نے کہا کہ ہم نے قلات میں اپنے 14 روزہ بھوک ہڑتالی میں مطالبہ کیا تھا کہ بھرتیوں کے لسٹ آویزاں کئے جائیں لیکن لیت و لعل سے کام لیا گیا۔
ہم حکام بالا سے مطالبہ کرتے ہیں تمام تعیناتیاں منسوخ کرکے دوبارہ ٹیسٹ انٹرویو لیکر میرٹ پر تعیناتیاں یقینی بنائے جائے۔ محکمہ صحت میں جو بھرتیوں کے حوالے سے شکایتی کمیٹی بنائی گئی کہ جوکہ ڈھونگ کے سوا کچھ نہیں معاملات کو ٹھنڈا کرنے کے لئے ایسے اوچھے ہتھکنڈے کئے جارہے ہیں۔ تاکہ اہل اور حقدار لوگ چپ کرا کراپنی بد عنوانی پر پردہ ڈالا جائے۔
احتجاج پر بیٹھے شرکا پوسٹوں کی منسوخی تک احتجاجی کیمپ میں بیٹھیں گے جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔