مہسا کی کہانی ان کی ظالمانہ موت سے ختم نہیں ہوئی،امریکی صدر

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

امریکی صدر بائیڈن نےایران میں مہسا امینی کی برسی کے موقع پر اپنے ایک جاری بیان میں مہسا امینی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے دنیا میں ہر جگہ خواتین اور لڑکیوں کے خلاف صنفی بنیاد پر ہونے والے تشدد کے خلاف آواز اٹھانے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔

ہفتے کے روز مہسا امینی کی پہلی برسی ہے، وہ 22 سالہ ایرانی کرد خاتون جنہیں ایران کی اخلاقی پولیس نے تہران میں ڈریس کوڈ کی مبینہ خلاف ورزی کے الزام میں گزشتہ سال حراست میں لیا تھا اور دورانِ حراست وہ ہلاک ہو گئی تھیں۔مہسا امینی کےخاندان نے الزام لگایا تھا کہ انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

صدر بائیڈن نے کہا ہے،” مہسا "زینا” امینی کی موت کی برسی کے موقع پر، جِل اور میں دنیا بھر کے لوگوں کے ساتھ مل کر انہیں یاد کرتے ہیں — اور ہر اس بہادر ایرانی شہری کو ، جو پرامن طریقے سے جمہوریت کا مطالبہ کرنے پر ایرانی حکومت کے ہاتھوں مارا گیا، زخمی یا قید ہوا ہے۔”

پیغام میں مزید کہا گیا ہے،” جیسا کہ ہم نے پچھلے سال دیکھا ہے، مہسا کی کہانی ان کی ظالمانہ موت کے ساتھ ختم نہیں ہوئی۔ انہوں نے ایک تاریخی تحریک ’ عورت، زندگی، آزادی‘ کیلئے تحریک کو جنم دیا جس نے ایران کو اور دنیا بھر کےان لوگوں کو متاثر کیا جو صنفی مساوات اور اپنے انسانی حقوق کے احترام کی ان تھک وکالت کر رہے ہیں۔

صدر بائیڈن نے اس بارے میں امریکی موقف اور اقدامات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پچھلے سال کے دوران، امریکہ نے ایرانی عوام کی اپیلوں کا جواب دیتے ہوئے ایک بڑی سفارتی مہم کا اہتمام کیا جس کی وجہ سے ایرانی حکومت کو خواتین کے اسٹیٹس سے متعلق اقوام متحدہ کے کمیشن سے ہٹا دیا گیا، اور اس کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیےاقوام متحدہ کے حقائق تلاش کرنے والے مشن کی تشکیل کی گئی۔

مہسا امینی کی برسی کے موقع پر صدر بائیڈن کے بیان کے آخر میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے 70 سے زیادہ ایرانی افراد اور اداروں پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں جو وہاں عوام پر حکومت کے جبر کی حمایت کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ اور آج ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں میں سے کچھ کو ہدف بناتے ہوئے اضافی پابندیوں کا اعلان کیا جا رہا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment