متعدد بین الاقوامی میڈیا اداروں نے حالیہ کشیدگی کے دوران یہ خبر دی ہے کہ امریکہ نے ایران جنگ کے تناظر میں عراق کے کردستان خطے کے بااثر افراد اور مختلف کرد گروہوں سے بات چیت کی ہے۔
یہ رپورٹس حالیہ دنوں میں امریکہ کی جانب سے ایران میں زمینی افواج بھیجنے کے امکان کے بارے میں ہونے والی بحث کے درمیان شائع ہوئی ہیں۔
ایک ایسا موضوع جسے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے ’احمقانہ‘ قرار دیا لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس امکان کو یکسر مسترد نہیں کیا۔
صدر ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ انھیں زمینی دستے بھیجنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں۔ ’میں دوسرے صدور کی طرح یہ نہیں کہہ رہا کہ کوئی زمینی فوج نہیں بھیجی جائے گی لیکن اگر ضرورت پڑی تو انھیں استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے ایک پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ ’صدر نے مشرق وسطیٰ میں شراکت داروں، اتحادیوں اور علاقائی رہنماؤں سے متعدد ملاقاتیں کی ہیں۔ انھوں نے شمالی عراق میں ہمارے پاس موجود اڈے کے بارے میں کرد رہنماؤں سے بھی بات کی لیکن کوئی بھی ایسی رپورٹ کہ صدر نے کسی منصوبے پر اتفاق کیا، مکمل طور پر غلط ہے۔‘
دوسری جانب خبر رساں ادارے روئٹرز نے تین ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ایرانی کرد مسلح گروپ حالیہ دنوں میں امریکہ کے ساتھ اس بات پر بات چیت کر رہے ہیں کہ آیا عراقی کردستان سے ایران پر حملہ کرنے کے لیے زمینی کارروائی کی منصوبہ بندی کی جا سکتی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایرانی سرحدی پٹی اور عراقی کردستان کے علاقے میں موجود ایران کے مخالف کرد گروپوں کے اتحاد نے اس بات پر زور دیا ہے کہ انھیں اس طرح کے حملے کے لیے ’امریکی فوج اور انٹیلیجنس مدد‘ کی ضرورت ہے جبکہ ’ہتھیاروں کی فراہمی اور سی آئی اے کے کردار‘ جیسے آپشنز پر بھی بات چیت کی گئی۔
ایران کی مخالفت کرنے والی کرد جماعتوں کے ایک رہنما نے بی بی سی عربی کے نامہ نگار فراس کلیانی کو بتایا کہ ان کی پارٹی عراقی کردستان سے اپنی افواج کو ’مناسب وقت پر‘ ایران منتقل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
اسرائیلی صحافی بارک راوید نے میں آکسیوکس میں رپورٹ کیا کہ ’ڈونلڈ ٹرمپ نے عراق میں دو اہم کرد رہنماؤں مسعود بارزانی (کردستان ڈیموکریٹک پارٹی) اور بفیل طالبانی (جلال طالبانی کے بیٹے اور کردستان یونین کے رہنما) سے فون پر بات کی۔
باخبر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے آکسیوکس نے لکھا کہ یہ رابطے کردوں کے ساتھ مزید ہم آہنگی پیدا کرنے اور جنگ کی پیشرفت کے دوران ان کے ممکنہ کردار کا جائزہ لینے کی کوششوں کے طور پر کیے گئے تھے۔
آکسیوکس نے یہ اطلاع بھی دی کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو حالیہ مہینوں میں کردوں کے ساتھ واشنگٹن کے تعلقات مضبوط بنانے کے خیال کی حمایت کرتے ہیں۔
اسی دوران امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے کئی موجودہ اور سابق امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ میں اس بات پر بات چیت جاری ہے کہ آیا امریکی سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی (سی آئی اے) کو ایران کے مخالف کچھ کرد گروہوں کو مسلح کرنے کے لیے مداخلت کرنی چاہیے۔
سی این این کے ذرائع کے مطابق یہ منصوبہ ابھی زیر غور ہے اور امریکی حکومت کے اندر اس حوالے سے کوئی اتفاق رائے نہیں۔
ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ بابل و نینوا کے میدانوں میں اور پہاڑوں پر رہنے والے قدیم ترین لوگ ہیں۔ یہ علاقے اب جنوبی ترکی، شمال مشرقی شام، شمالی عراق، شمال مغربی ایران اور جنوب مغربی آرمینیا کہلاتے ہیں۔
لیکن کردوں کی سب سے زیادہ تعداد ایران، عراق اور ترکی کے متصل علاقوں میں رہتی ہے اور اس کے بعد کردوں کی بڑی تعداد شام کے شمال مشرقی علاقے میں آباد ہے اور ان علاقوں کو عموماً کردستان کہا جاتا ہے۔
کردستان کے ہر ملک میں اس کے اپنے منفرد معنی ہیں۔ ایران میں کرد علاقوں پر مشتمل ایک صوبے کا نام ہی کردستان ہے، جبکہ عراق میں کردوں کے علاقے کو کرد خود مختار خطہ (کردستان ریجنل گورنمنٹ) کہا جاتا ہے لیکن آئینی لحاظ سے یہ عراق کا ایک صوبہ ہے۔
انسائیکلو پیڈیا بریٹینیکا کے مطابق اس کے علاوہ کردوں کی ایک اچھی خاصی تعداد ایران کے شمال مشرقی صوبے خُراسان میں بھی آباد ہے۔
عراق کے کردوں پر صدام حسین کے دور میں بد ترین مظالم ڈھائے گئے۔ صدام حسین پر کردوں کی نسل کُشی کرنے کے الزامات عائد کیے گئے۔ اسی دورِ حکومت میں کردوں پر 80 کی دہائی میں کیمیائی ہتھیار بھی پھینکے گئی جس سے ہزاروں کرد شہری ہلاک ہوئے۔
اور جب ایران کے شمال مغرب کے سرحدی علاقوں میں رہنے والے کردوں نے سنہ 1946 میں ایک آزاد کردستان بنانے کی کوشش کی تو انھیں اس وقت کی ایرانی حکومت نے سختی سے کچل دیا۔