بارڈرز ٹریڈ کو بند کرکے بلوچستان کے لوگوں پر زمین تنگ کردی گئی، ٹرانسپورٹ یونین

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان بس ٹرانسپورٹ فیڈریشن کے چیئرمین محمودخان بادینی نے کہاہے کہ بلوچستان کے ایران سے منسلک بارڈرز ایریاپرچھوٹے اورمحدودپیمانے کے تجارت کو بندکرکے یہاں کے باسیوں کیلئے جو زمین تنگ کی گئی ہیں دراصل یہ یہاں کےلوگوں کی انسانی بنیادی حقوق پرقدغن کے مترادف ہیں بیروزگاری سے تنگ لاچار رخشان اور مکران کے لوگ اپنی مدد آپ زندہ رہنے کے لیے غیر ممنوعہ ایشیا کی تجارت سے گزارہ کررے حکومت کے اختیار دار انہے ریلیف فراہم کریں اور اس طرح کے ریلیف اس وقت تک فراہم کرنا ہوگا۔

جب تک یہاں روزگار کے اور ذرائع فراہم نہیں کیئےجاتے بلوچستان کے پسماندہ علاقوں خصوصا رخشان اور مکران ڈویژنوں میں گزشتہ ستر سالوں سےاب تک کوئی بڑی انڈسٹری لگانے اور ذراعت کے لیئے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے گئے ٹرانسپورٹ کیلئے موٹروے دورکی بات ہیں ہمیں دو روئہ ہائی ویز تک نہیں دیئے گئے لہذاظلم کا یہ سلسلہ ختم کیاجائے بارڈرز ٹریڈ کوچھوٹے کاروباری عوام اور ٹرانسپورٹرزکےلیئے اوپن کیا جائے اوران سےبلوچستان کے عوام کوفائدہ پہنچانے کے لیے نیشنل ہائی ویز خصوصا این چالیس تفتان روٹ پر سے کسٹمز اوردیگر درجنوں غیر ضروری چیک پوسٹوں کو ہٹانے سےمتعلق جامع ریلیف کااعلان کیاجائے۔

نگران وزیراعظم ہمارے جائز مطالبات پرعمل درآمد کرکے یہ ثابت کریں کہ واقعی انکا تعلق خاک بلوچستان سے ہیں اسکادل یہاں کےباسیوں کے ساتھ دھڑکتا ہے اینٹی سمنگلنگ کےنام پر قائم چیک پوسٹوں نجات اوربارڈری ٹریڈکے غیر ممنوعہ ایشیاکی نقل و عمل پر پابندی ختم کرائیں جہاں تک چینی کی افغانستان سمنگلنگ کی بات ہے ہم اسکے سخت مخالفت کرچکے ہیں افغان بارڈر سےاسکوبندکیاجائے یہاں رخشان ڈویژن کے علاقوں کوچینی بنیادی ضرورت سےمحروم رکھنے کیلئےپرچون دکانداروں کے چینی کواین 40 پرچیک پوسٹوں پراتاراگیاہے جسکی وجہ سےنوشکی،دالبندین،نوکنڈی تفتان ماشکیل میں مقامی آبادیوں میں ایک چمچ چینی نایاب ہے جبکہ ان علاقوں کے وسائل ہمارے ملک کے معیشت کیلئے گاماتاسےبھی ذیادہ اہمیت کے عامل رہے ہیں ۔

Share This Article
Leave a Comment