ایک شہید اُستاد |سمرین بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
8 Min Read

آج صبح سورج طلوع ہونے کے بعد میں اپنے روز مرہ کے کاموں میں مصروف تھی۔ دوسری طرف میری چھوٹی بہن اسکول جانے کی تیاری کررہی تھی ،نہ جانے اچانک انہیں کیا خیال آیا اور وہ معصومانہ انداز سے کہنے لگی کہ” ہم کتنے بد نصیب ہیں نا؟”

میں یہ سن کر سوچنے پر حیران رہ گئی کہ اس بچی کو کیا ہو گیا؟

اس سے پہلے میری پیاری سی بہن کھبی ایسی باتیں نہیں کرتی تھی۔

میں نے اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے ہو کہا” کیا ہوگیا تمہیں۔؟”

وہ لمبی آہ برتے ہوئے کہنے لگی تمھیں اس گاؤں کو چھوڑے اور شہر میں آباد ہوئے کتنے سال ہوئے ہیں۔؟

میں گہری سوچ میں ڈوب گئی آج سے پہلے میری چھوٹی بہن نے ایسا کوئی سوال نہیں کیا، ان کی طبعیت تو ٹھیک ہے نا؟

میں نے جلدی سے جواب دیا تقریبا 7/8 سال ہوئے ہیں کیا ہوا کوئی وجہ۔۔۔۔ ؟

نہیں تو ویسے آج شام میں نے ایک خواب دیکھا ہے کہ اپنے گاؤں میں ایک مٹی سے بنے ہوئے پرائیوٹ اسکول” سن رائیز انگلیش میڈیم اسکول کوہڑو جھاؤ ” میں ایک تقریب کے دوران سینکڑوں سبز اور سرخ جھنڈے پوسٹر تھامےایک ہجوم دیکھا ہے اور اسکول کی دیوار پر چسپاں ایک بہت بڑاپینافلیکس جس میں اُستاد علی جان کی تصویر تھی۔ سب اُس تصویر کی طرف حیرانگی سے دیکھ رہے تھے اور چھوٹے چھوٹے عکس بھی نمایاں تھے جنہیں کچھ لوگوں نے اپنے دل کے قریب رکھے ہوئے تھے۔ میں نے اپنی چھوٹی پیاری سہیلی سپنا سے پوچھا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ یہ بہت لمبی کہانی ہے یہاں سے فارغ ہوکر میرے ساتھ چلو گھر میں میرے پاپا اور امی سے اس حوالے سے پوچھیں گے۔ میں نے اپنی اماں سے بہت بار سنا ہے کہ وہ ایک عظیم اُستاد تھا لیکن میری امی سے کھبی کھل کر اس موضوع پہ بات نہیں ہوئی۔ آج کے اس جلسے کے حوالے سے ہم دونوں گھر جاکر امی سے ضرور پوچھیں گے۔

ہجوم اپنی پر جوش تقریروں سے جاری تھا ۔ہر ایک کی باری آنے کے بعد دوسرا اسٹیج پر آکر اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کیلئے جو زبان میں آئے بول دیتا تھا۔ آخر میںدو سے تین عورتیں آئیں ان کے چہرے نقاب سے ڈھکے ہوئے تھے۔ باتوں باتوں میں ہمیں پتہ چلا کہ یہ ہمارے قریبی ہمسائے ہیں،کیا اور کیوں اپنے چہرے کو ڈھانپے ہوئے ہیں ہمیں نہیں پتہ اور پتہ کرنے کی ضروت بھی نہیں تھی۔

مغرب کا وقت ہونے والا تھا۔ آخر میں ایک بوڑھا شخص چھڑی کا سہارا لیکر اسٹیج پر پہنچے ،سب حیرانگی سے دیکھ رہے تھے یہ بوڑھا شخص بھی انقلاب لائے گا۔

بوڑھے نے اپنے تقریر سے ہجوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں یہاں رہتے ہوئے کئی سال ہوئے ہیں لیکن میں نے یہاں بہت سارے لوگوں کو بات کرتے ہوئے دیکھا ہے مگر سچ یہ ہے کہ آج جس شہید کے حوالے سے منعقدہ پروگرام ہے ہمیں اس کی راہ پر چلنے سے کوئی نہیں روک سکتا اورہاں ہم نے اس کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کی ہمیں بہت سے مصائب کا سامنا کرنا اور مزید مصائب سامنے آئیں گے کیوں کہ یہ آزادی کا کارواں ہے۔ گھروں کے کھنڈرات، جبری اغوا اور قتل یہ سب اس پروگرام کے حصے ہیں ،اگر کسی میں دم ہے آخری قدم تک چل کے دکھائے۔

سارے ہجوم نے ہاتھ اوپر کرکے آزاد بلوچستان کے نعرے لگائے۔ جلسہ ختم ہوا ،سارے لوگ اپنے اپنے گھروں کو لوٹے اورمیں اور میری پیاری سہیلی سپنا ،تھوڑی دیر بعد اسکول کی مین گیٹ سے نکلے تو چپراسی نے گیٹ کو بڑے پتھروں سے دونوں طرف بلاک کرلیا۔

قریبی گاؤں سے شام کی اذان آنے لگی ،سپنا اور میں گھر پہنچتے ہی سپنا کی امی اور ابو دونوں گھر کے سامنے ایک چھٹائی پر بیٹھے ہو ئے چائے پی رہے تھے اور ہمارا انتظار کررہے تھے۔پڑھنے میں سپنا مجھ سے بہت ذہین ہے اور عمر کی لحاظ سے چھوٹی تھی۔

سپنا ابو کے قریب بیٹھ کر سنجیدگی سے کہنے لگی امی تھوڑا قریب ہو جاؤ مجھے آپ سے اور ابو سے ایک حقیقت پوچنا ہے۔

امی چائے کا پیالہ رکھ کر اور قریب سرک گئے۔

ابو کیا آپ ہمیں آج کے پر ہجوم جلسہ کے بارے میں بتانا پسند کریں گے یا میں خود اس حقیقت کی تلاش میں پڑھوں۔

سپنا کی ماں نے ابو کی طرح اشارہ کیا اور کہنے لگی بچوں کو وہ باتیں بتاؤ جو مناسب ہوں اور اس پر عمل کریں۔

ہماری باتیں شروع ہونے والی ہی تھیں کہ اچانک گھر کے پیچھے سے ایک موٹر سائیکل میں دو نامعلوم مسلح بندے آئے۔ انہوں نے سفید کپڑے، کالے جوتے پہنے ہوئے ،ہاتھ میں ایک تسبیع اور سروں پہ مدرسے کی ٹوپی پہنے ہوئے تھے ۔ہمارے نزدیک پہنچ کے پسٹل نکال کر زور سے کہنے لگے ۔الگ الگ ہو جائیں، میں سپنا کی ماں کے بغل میں گھس گئی اور سپنا اپنے بابا کے سینے سے چپک گئے۔

انہوں نے جب فائر کول دی سپنا اپنے بابا کے گود میں خون سے سرشار ہو ئے اور خون کا رخ سیدھا سن رائیز انگلش میڈیم اسکول کوہڑو جھاؤ کی طرف بہنے لگا۔سپنا کی ماں زور سے چلاتی گئی اور میں خواب سے بیدار ہو گئی اور میرے سارے بدن سے پسینہ بہہ رہا تھا اور میرے نزدیک ماں سوئی ہوئی تھی میں نے ماں کو خواب کے بارے میں بتانا مناسب نہیں سمجھا ۔

جب ماں نے نیند سے اُٹھ کر میری طرف دیکھا تو مجھے محسوس ہوا کہ ماں بھی خواب اور کوہڑو کے پر ہجوم جلسہ میں ہمارے ساتھ تھی،مجھے ماں کی جلسے میں موجودگی اور خواب میں ایک ساتھ ہونا تب محسوس ہوا جب وہ نیند سے اُٹھ کر میری طرف دیکھ رہی تھی، اسکی آنکھوں سے آنسو ٹپک رہے تھے۔

تم میری بڑی بہن اور اچھی سہیلی ہو، کیا مجھے اس خواب کی تعبیرکے بارےمیں بتاؤ گے؟

بڑی بہن ہونے کے ناطے میںچھوٹی بہن کو تسلی دے رہی تھی کہ گھر کے باہر آتے ہوئے میرے ابو کو ایک سفید ویگو کالی شیشے والی گاڑی نے ابو کو شہید کیا تھا۔

ابو کی جیب سے ایک پرانا اور پھٹا ہوا کاغذ پنسل سے کھینچی گئی شہید استاد علی جان کی تصویر جو کہ کوہڑو کے جلسہ عام پر پارٹی کی جانب سے تقسیم کیے گئے تصاویر میں سے ایک تھا، ایک کونے میں لکھا تھا ” اُستاد علی جان سنٹر کمیٹی ممبر ،بلوچ نیشنل موومنٹ۔


٭٭٭

Share This Article
Leave a Comment