ایران سے سرحدی تجارت کی بندش کیخلاف نیشنل پارٹی نے احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے ۔
نیشنل پارٹی کے مرکزی سکریٹری جنرل جان محمد بلیدی، نیشنل پارٹی کیچ کے صدر مشکورانور، بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پجار کے چیئرمین نے تربت میں ایک پریس کانفرنس کی ۔
پریس کانفرنس میں بارڈر بندیش کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کیا گیا۔جس میں 16ستمبر کواحتجاجی مظاہرہ ،جلسے اور دھرنوں شامل ہیں۔
انہوں نے بارڈر کاروبار کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل پارٹی سرحدی تجارت پر عائد پابندیوں کے خلاف بلوچستان بھر میں احتجاجی تحریک چلائے گی۔
پریس کانفرنس میں تمام سیاسی جماعتوں، ٹریڈ یونینوں، طلبا تنظیموں، کاروباری و تجارتی تنظیموں، گاڑی مالکان کو احتجاج میں بھرپور شرکت کی دعوت دی گئی۔
انھوں نے کھاکہ بارڈر کاروبار کوئی سمگلنگ نہیں ہے ایرانی بارڈر سے تیل لانے والے تمام گاڑیاں ایف سی اور مقامی انتظامیہ نے باقاعدہ رجسٹر کیے ہیں اور ڈپٹی کمشنروں کی اجازت سے روزانہ سینکڑوں گاڑی بارڈر باقاعدہ کراس کرتے ہیں اور تیل لاتے ہیں حکومتی اور اداروں کی حوصلہ افزائی کی وجہ سے لوگوں نے قیمتی زیورات اور جائیدادیں بھیچ کر گاڑیاں خریدے۔ کم و بیش پچاس ہزار کے قریب گاڑیاں مکران میں ضلعی انتظامیہ کے پاس رجسٹرڈ ہیں۔ تیل کاروبار کا پیسہ دہشت گردی کے عمل میں استعمال ہونے کی بات میں صداقت نہیں ہے۔