: نیوز اپ ڈیٹ
مراکش میں 6.8 شدت کے زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 1037 ہوگئی جبکہ 672 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ایک مقامی اہلکار نے بتایا کہ زیادہ تر اموات پہاڑی علاقوں میں ہوئیں جہاں پہنچنا مشکل ہے۔
مراکش کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف جیو فزکس کے مطابق جمعے کی رات دیر گئے ملک کے وسط میں واقع صوبہ الحوز میں ریکٹر سکیل پر 7 کی شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا۔
امریکی جیولوجیکل سروے نے بتایا ہے کہ زلزلے کا مرکز مراکش کے جنوب مغرب میں 71 کلومیٹر ’ہائی اٹلس ماؤنٹینز‘ پہاڑوں میں تھا۔ اس زلزلے کی گہرائی 18.5 کلومیٹر تھی۔
زلزلہ مقامی وقت کے مطابق رات 11:11 منٹ پر آیا۔ اس زلزلے کے 19 منٹ بعد 4.9 کی شدت کا آفٹر شاک آیا۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف جیو فزکس نے اشارہ کیا کہ مراکش میں آنے والے زلزلے کے بعد آنے والے آفٹر شاکس جاری رہ سکتے ہیں۔
وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ مراکش اور جنوب میں کئی علاقوں میں لوگ ہلاک ہوئے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ایک عارضی رپورٹ کے مطابق زلزلے سے الحوز، مراکش، وورزازات، أزيلال، شيشائو اور تارودان کے صوبوں اور میونسپلٹیز میں 1037 افراد ہلاک ہوئے۔
اس بیان میں مزید کہا گیا کہ جو 672 افراد زخمی ہوئے جو اب ہسپتال میں زیرعلاج ہیں۔
ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر غیر تصدیق شدہ ویڈیو کلپس میں تباہ شدہ عمارتوں اور گلیوں سے ملبے کو دیکھا جا سکتا ہے۔ کچھ ویڈیوز میں لرزتی ہوئی عمارتوں کی بھی عکس بندی کی گئی ہے، جس کے بعد لوگ زندگی بچانے کے لیے دھول میں محفوظ مقام کی طرف بھاگتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
زلزلے کے مرکز کے قریب اسنا کے پہاڑی گاؤں کے رہائشی مونتاسر ایتری نے بتایا کہ وہاں زیادہ تر مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہمارے پڑوسی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں اور لوگ گاؤں میں دستیاب ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے انھیں بچانے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔‘
اطلاعات کے مطابق آفٹر شاکس کے خطرات کی وجہ سے مقامی لوگوں نے اپنے گھروں سے باہر رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مراکش کی فوج نے آفٹر شاکس کے خطرے کے پیش نظر شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت بھی کی ہے۔