افغانستان سے ملحق پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع چترال جو افغانستان بارڈرکے سیاحتی علاقے کیلاش کے قریبی علاقوںاشورٹی اور جنجیرت میں گذشتہ روز بدھ کی صبح پانچ بجے ٹی ٹی پی پاکستانی فورسزکے چوکیوں پر حملہ کیا۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق افغانستان کی جانب سے جدید اسلحہ سے لیس شدت پسندوں نے بڑی تعداد میں چترال میں دو فوجی چوکیوں پر حملہ کیا جس کے بعد جھڑپوں میں چار سکیورٹی اہلکار اور 12 شدت پسند ہلاک ہوئے۔
انتظامیہ کی جانب سے سکیورٹی فورسز اور طالبان کی درمیان جھڑپوں میں کسی مقامی شخص کے زخمی یا ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جس مقام پر جھڑپیں ہوئی ہیں یہاں آبادی نہیں لیکن کیلاش اور شیخان قبیلے کی چراگاہیں ہیں۔
یہ پہاڑی علاقے سردیوں میں برف سے ڈھکے رہتے ہیں اور یہاں مقامی افراد یا سرحد پار سے نقل و حرکت نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے تاہم گرمیوں میں ان چراگاہوں میں مقامی افراد تو جاتے ہیں تاہم علاقے سے باہر سے آنے والے لوگوں کو یہاں فوج کی اجازت کے بغیر جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بدھ کے دن پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع چترال میں کالاش کے علاقے میں ’جدید اسلحے سے لیس شدت پسندوں کی بڑی تعداد کا حملہ پسپا کرتے ہوئے‘ چار فوجی جوان ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 12 شدت پسند بھی مارے گئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق شدت پسندوں نے افغانستان کی سرحد سے منسلک علاقے میں فوج کی دو چوکیوں پر حملہ کیا۔
بیان کے مطابق ’افغانستان کے صوبہ نورستان اور کنر میں شدت پسندوں کی نقل و حرکت کے بارے میں علم ہونے کے بعد یہ اطلاع بروقت افغان حکومت کو فراہم کی گئی تھی اور اسی وجہ سے فوجی چوکیوں بھی الرٹ تھیں۔‘
بتایا گیا ہے کہ علاقے میں شدت پسندوں کی موجودگی کا تعین کرنے کے لیے آپریشن کیا جا رہا ہے۔